China opens new big data centre in Lhasa

لہاسا: چین نے تبتیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اب ایک نئے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ چین کی کمیونسٹ حکومت نے لہاسا میں ایک نیا اور بڑا ڈیٹا آپریشن سینٹر کھولا ہے جو اب ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چینی حکومت نے یہ مرکز یہاں کے لوگوں اور یہاں کی آبادی پر نظر رکھنے کے مقصد سے کھولا ہے۔ چین یہاں کے لوگوں کی ہر چیز پر کڑی نظر رکھنا چاہتا ہے۔ یہ بڑا ڈیٹا سینٹر گزشتہ ماہ شروع کیا گیا تھا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ علاقائی سطح پر ڈیٹا انٹیگریشن اور ایپلیکیشن شیئرنگ کی راہ میں حکومت کا یہ پہلا اور بڑا قدم ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا سینٹر کے شروع ہونے سے یہاں کی ڈیجیٹل سروس زور پکڑے گی۔ حکومتی کام کے علاوہ معاشی ترقی، سماجی نظم و نسق، لوگوں کا معیار زندگی، مارکیٹ کی نگرانی، مالیات، بارڈر سیکیورٹی، ماحولیاتی ماحول، سیکیورٹی، ہنگامی خدمات اور مدد، ثقافت اور سیاحت کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ تاہم یہاں انسانی حقوق کے کارکن ایسا نہیں مانتے۔ واضح ہو کہ ستمبر میں ہی نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا تھا کہ چینی حکومت تبت کے لوگوں پر شکنجہ کسنے اور ان پر نظر رکھنے کے مقصد سے کچھ بڑا کرنے جا رہی ہے۔اس میں یہاں تک کہا گیا کہ چین تبت کے لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے لے رہا ہے۔ تبت کے خود مختار علاقے کے کئی دیہاتوں اور قصبوں میں اب تک ہزاروں لوگوں کے ڈی این اے نمونے لیے جا چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ ڈاگ کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کہا گیا کہ یہاں کے لوگوں کو اس کے لیے انکار کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس سال اپریل میں لہاسا کی سٹی واچ نے بتایا تھا کہ تمام چھوٹے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر 2020 میں تبت کے چنگھائی صوبے میں بھی تمام لڑکوں کے ڈی این اے کے نمونے جمع کرنے کی بات ہوئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ شروع سے ہی چینی حکومت یہاں کے لوگوں کے ساتھ دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔ حال ہی میں چینی حکومت نے اس کے لیے نئی پالیسی بنائی ہے جو اس کی زندہ مثال ہے۔ چینی حکومت تبت کے لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتی ہے اور ان پر بہت سی پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔