Iraq summons Iran, Turkey amid border tensions

بغداد:(اے یو ایس )عراق نے اپنی سرحد پر ترکی و ایران کے حملوں کے بعد جمعرات کے روز ترک اور ایرانی سفرا متعین بغداد کو طلب کر لیا۔عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر احمد الصحاف نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتا یاکہ ایران اور ترکی دونوں کے یہ حملے علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کی توجہ بھٹکا رہے ہیں۔ عراقی وزارت خارجہ نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ اس نے تازہ ترین سرحدی خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مطلع کر دیا ہے۔الصحاف نے مزید کہا کہ اس سے سرحد پر تعیناتی اور الرٹ کی سطح کے ساتھ ساتھ کشیدگی بھی بڑھے گی اور یہ ایران ۔عراق اور ترکی۔ عراق کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو گا۔ قبل ازیں عراقی کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی نے بدھ کے روز ایک اجلاس میں ایران اور ترکی کی سرحدوں کے ساتھ عراقی سرحدی فورسز کو دوبارہ تعینات کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔یہ پیش رفت حالیہ دونوں میں عراق کی سر زمین پر ترکی اور ایران کے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ملکی سرحدوں پر ترکی اور ایرانی خلاف ورزیوں اور صوبہ کردستان کے علاقوں پر بمباری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عراقی حکومت نے وزارتی کونسل برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایران اور ترکی کی سرحدوں کے ساتھ زیرو لائن رکھنے کے لیے عراقی سرحدی فورسز کو دوبارہ تعینات کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایرانی کرد اپوزیشن ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جو شمالی عراق کے خود مختار علاقے عراقی کردستان میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔دوسری طرف ترکیہ نے اتوار کے روز شمالی عراق اور شام میں کردستان ورکرز پارٹی اور کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا۔

بدھ کے روز جاری ہونے والے عراقی بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارتی کونسل برائے قومی سلامتی نے عراق کی کردستان علاقائی حکومت اور وزارت پیشمرگاہ کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے قومی کوششوں کو متحد کیا جا سکے۔عراقی کردستان کے سرحدی علاقے پیشمرگا کے کنٹرول میں ہیں، جو کردستان کے علاقے میں خصوصی فوجی دستے ہیں، لیکن وہ انتظامی طور پر عراقی وزارت دفاع کے ماتحت ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ عراق کی کردستان کی صوبائی حکومت اور پیشمرگاہ کی وزارت کے ساتھ مل کر تیار کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز ہونے والے قومتی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیشمرگا فوجی سربراہ نے بھی شرکت کی تھی۔منگل کو پیشمرگاہ کے ایک وفد نے وزارت داخلہ اور دفاع کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ عراق کے کردستان ریجن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے سرحد کی حفاظت کو بڑھانے کے لیے ایک حکمت عملی پر اتفاق کیا۔