Taiwan tracks 15 Chinese military aircraft, 3 naval ships around island

واشنگٹن:: روس یوکرین جنگ کے درمیان اب دنیا کو ایک اور جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔ اس کا اندازہ چین کی جارحانہ سرگرمیوں کو دیکھ کر لگایا جا رہا ہے۔ چین جان بوجھ کر تائیوان کے ارد گرد اپنے جنگی طیارے اور جنگی جہاز بھیج کر کشیدگی بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ تائیوان کی وزارت قومی دفاع نے اطلاع دی ہے کہ15 چینی فوجی طیاروں اور تین بحری جہازوں کو ملک بھر میں ٹریک کیا گیا، جس میں ایک ڈرون بھی شامل ہے جس نے سینٹر لائن کو عبور کیا۔ معلومات کے مطابق، 18-19 نومبر کو تین چینی لڑاکا طیاروں نے ۔تائیوان کے ایئر ڈیفنس شناختی زون میں دراندازی کی۔

تائیوان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایم این ڈی نے کہا کہ پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (پی ایل اے اے ایف) کے15 فوجی طیارے اور پیپلز لبریشن آرمی نیوی (پی ایل اے این) کے تین جہازوں کو تائیوان کے ارد گرد تلاش کیا گیا۔ ان میں سے ایک طیارے نے سینٹر لائن کو عبور کیا اور تین کو اے ڈی آئی زیڈ میں ٹریک کیا گیا۔ جس طیارہ نے سینٹر لائن کو عبور کیا وہ کیس رنبو سی ایچ -4جاسوسی ڈرون تھا۔ اے ڈی آئی زیڈ کے جنوب مغربی کونے میں داخل ہونے والے تین جنگجوو¿ں کی شناختچنگڈو جے-10 لڑاکا طیاروں کے طور پر ہوئی۔

ایم این ڈی نے کہا کہ اس نے لڑاکا گشتی طیاروں کو بھیج کر، ریڈیو وارننگ جاری کر کے اور چینی طیاروں کی دراندازی کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی میزائل سسٹم کو تعینات کر نے کا کام کیا۔ نئی مداخلت سے اس ماہ تائیوان کے ارد گرد تلاش کیے گئے چینی فوجی طیاروں کی تعداد 356 اور بحری جہازوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تائیوان کے معاملے پر مسلسل بڑھتے ہوئے تناو¿ کے درمیان انڈونیشیا میں جی 20-سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات کی۔ بائیڈن نے اس موقع پر امید ظاہر کی تھی کہ جن پنگ کے ساتھ ملاقات سے کشیدگی کے اہم نکات کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔