India to deploy "tilting trains" by 2026 to assist maintain speed on bends: Official

نئی دہلی:ریلوے حکام نے جمعہ کے روز کہا کہ ہندوستانی ریلوے 2026 تک جھکنے والی وہ ٹرینیں تیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو خمدار اور گھماؤ والے راستوں پر تیز رفتار برقرار رکھ سکیں۔ حکام کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نیم تیز رفتار وندے بھارت ٹرینوں کے 100 نئے یونٹ بنائے جا رہے ہیں۔ 2024 تک تقریباً 100 وندے بھارت ٹرینیں اس ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی۔ یلوے کے ایک سینئر افسر کے مطابق 2025-26 تک ہندوستان کو اپنی پہلی جھکاؤ والی ٹرین ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 100 سینٹی میٹر تیز رفتار وندے بھارت ٹرینیں تیار کی جا رہی ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ 2024 تک تقریباً 100 وندے بھارت ٹرینیں اس ٹیکنالوجی سے لیس ہو جائیں گی۔ ہم ایک ٹیکنالوجی پارٹنر کے ساتھ معاہدہ کریں گے اور اگلے دو سے تین سالوں میں اسے حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلیپر کلاس والی دیسی ٹرینوں کا نیا ورژن سال 2024 کی پہلی سہ ماہی تک آ جائے گا۔ ریلوے اہلکار نے کہا کہ جھکنے والی ٹرینوں میں ایسا انتظام ہوتا ہے، جس کی وجہ سے براڈ گیج ٹریک پر ان کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔

جھکاؤ والی ٹرینیں خمدار پٹریوں پر رفتار برقرار رکھتے ہوئے موڑ کاٹ سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 100 وندے بھارت ٹرینیں تیار کی جا رہی ہیں، جن کی مدد سے ٹرینیں تیز رفتاری سے موٹر سائیکل کی طرح خمدار راستوں پر دوڑ سکیں گی۔ان ٹرینوں میں مسافروں کو کوئی جھٹکا محسوس نہیں ہوتا اور شور بھی بہت کم ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2025 تک 400 وندے بھارت ٹرینوں میں سے 100 میں یہ ٹیکنالوجی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلوے اگلے چند سالوں میں 75 وندے بھارت ٹرینوں کے ذریعے 10-12 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ اس قسم کی ٹرینیں اس وقت اٹلی، پرتگال، سلووینیا، فن لینڈ، روس، جمہوریہ چیک، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، چین، جرمنی اور رومانیہ میں چل رہی ہیں۔میں نے کہا تھا کہ 475 وندے بھارت تیار کرنے کے منصوبے پر کام جاری ہے ۔قبل ازیں جمعرات کے روز وزیر ریل اشونی ویشنو نے کہا تھا کہ بلٹ ٹرین 2026 تک مکمل طور پر چل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم 475 وندے بھارت ٹرینیں چلانے کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ بجٹ میں 400 ٹرینوں کی منظوری دی گئی تھی اور اس سے قبل 75 ٹرینوں کی منظوری دی گئی تھی۔ ہم آنے والے تین سالوں میں ہدف پورا کر لیں گے۔