Turkish police detain protesters at anti-violence rally

استنبول : خواتین پر تشدد کے خاتمہ اور تحفظ خواتین کے مقصد سے یہاں کیے جانے والے معاہدے میں واپسی کے مطالبہ میں کی جانے والی ایک ریلی میں شامل خواتین کو منتشر کرنے کے لیے پولس نے طاقت کا استعمال کیا اور درجنوں کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرے میں شامل خواتین نے یوم خواتین کے موقع پراستنبول کی اصل پیدل شاہراہ استقلال میں،جو ملکی و غیر ملکی سیاحوں اور خود ترکوں کے لیے بڑی پسندیدہ جگہ ہے، خواتین پر تشدد کے خلاف 25نو مبر کو سلامتی اور قیام امن عامہ کی بنیادوں پر ریلی پر حکومت کی عائد کردہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارچ کرنے کی کوشش کی ۔

واضح ہو کہ خواتین پر تشدد کے خلاف 25نومبر کو ہر سال عالمی پیمانے پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ اسی ضمن میں 25 نومبر پلیٹ فارم کی جانب سے استنبول میں بھی یہ ریلی منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔مظاہرین نے ایران میں ایک 22سالہ دو شیزہ مہسا امینی کی پولس حراست میں موت کے خلاف احتجاج میں لگائے جانے والے عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے ترک اور کرد زبان میں لگانے کے ساتھ ساتھ ایران میں احتجاجی خواتین سے اظہار یکجہتی کیا اور ایران میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت اورخواتین کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔استقلال میں ،جہاں جہاں13 نومبر کو ایک بم دھماکہ ہوا تھا اور جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے، پولیس کثیر تعداد میں تعینات تھی ۔ استنبول کے گورنر کے دفتر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ استقلال پر لائیو میوزک، نمائشوں اور کھانے پینے کے کھوکھوں پر پابندی لگا رہا ہے۔