Don’t think that we are finished,’ Saudi Arabia coach says after defeat by Poland

دوحہ:(اے یو ایس ) سعودی عرب کے کوچ ہروی رینارڈ نے کہا ہے کہ فٹ بال عالمی کپ ٹورنامنٹ کے گروپ سی میں پولینڈ کے ہاتھوں 2-0 سے شکست کے باوجود دنیا میں کسی نے یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ ان کی ٹیم اس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔پہلے میچ میں ارجنٹائن سے2-1 کی شاندارفتح کے بعد سعودی عرب نے پولینڈ کے خلاف مختلف اندازمیں کھیلا ہے اورگیند کو زیادہ وقت اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن پہلے اوردوسرے ہاف کے اختتامی لمحات میں پولینڈ کے پیوٹر زیلینسکی اور رابرٹ لیوانڈوسکی نے ایک ایک گول کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔

پولینڈ کی ٹیم نے میکسیکو کے ساتھ اپنا پہلامیچ 0-0 سے برابر کھیلا تھا۔اب وہ دو میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ گروپ سی میں سرفہرست ہے،وہ سعودی عرب سے ایک پوائنٹ آگے ہے۔ارجنٹائن ہفتے کی شام میکسیکو کا سامنا کرنے سے پہلے پوائنٹس ٹیبل پرسب سے نیچے تھا۔رینارڈ نے پولینڈ کے خلاف میچ کے بعدنیوزکانفرنس میں سعودی فٹ بالروں کے کھیل کے تعریف کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی نے یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اس سطح کا کھیل پیش کرسکتے ہیں۔جی ہاں، سعودی عرب میں ہم کھلاڑیوں کواچھی طرح جانتے تھے، لیکن وہ دنیا بھرکے شائقین کے لیے نامعلوم تھے۔انھوں نے کہا کہ ہم ابھی ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوئے ہیں۔مجھے اپنے کھلاڑیوں پرفخر ہے۔ہمیں اس میچ کوبہترطریقے سے کنٹرول کرنا چاہیے تھا۔اگرہم نے پنالٹی ضائع نہ کی کی ہوتی توپہلاہاف 1-1 سے برابری پرختم ہوتا اور پھردوسرے ہاف میں کھیل ذرا مختلف ہوتا ۔

رینارڈ نے وضاحت کی کہ بدقسمتی کا ایجوکیشن سٹی میں شکست سے کوئی لینا دینانہیں بلکہ فعالیت اورگرم جوشی کی کمی تھی۔انھوں نے اعتراف کیا کہ ایک مضبوط ٹیم کے خلاف میدان کے آخری تہائی حصے میں ہم میں صف بندی کافقدان تھا، ہم نے گیندکو پاس کرنے میں غلطیاں کیں اور ہم حقیقت پسندانہ اندازمیں نہیں کھیلے لیکن ہم ہارنہیں مانیں گے رینارڈ نے کہا کہ بعض کھلاڑیوں نے آج غلطیاں کیں، لیکن ایسا ہوتا ہے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ فٹ بال ایک ٹیم کھیل ہے،کوئی انفرادی کھیل نہیں ۔54سالہ کوچ نے اشارہ دیا کہ ان کی ٹیم اسی توانائی اور خواہش کے ساتھ میکسیکو کے خلاف دوحہ کے لوسیل اسٹیڈیم میں اترے گی اوراگلا میچ کھیلے گی۔انھوں نے مزیدکہا کہ ہمیں تاریخ رقم کرنے کے لیے شائقین کی حمایت درکار ہے، میں ایک بارپھراسٹیڈیم کو سبز دیکھناچاہتا ہوں، ہوسکتا ہے کہ ہم سفید جرسی میں کھیلیں، لیکن یہ اہم نہیں، ہمیں تو شائقین کی حمایت چاہیے۔میچ کے آخری منٹوں میں جب سعودی ٹیم میں تھکاوٹ کے آثارکے بارے میں پوچھا گیا تو رینارڈ نے وضاحت پیش کی کہ یہ تھکاوٹ نہیں تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دوسرا گول ہوگیاتھا،اس کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے تھے اور نفسیاتی طور پرایسامشکل مرحلہ آتا ہے۔ووجسیچ سززنی نے پولینڈ کے لیے کھیل جیت لیا۔وہ ایک عظیم گول کیپر ہے، لیکن ہم آج ایسا (گول کیپر)دریافت نہیں کرسکے۔