Iranian protesters set fire Qasem Soleimani picture

تہران:(اے یو ایس ) ایران میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہرے جاری ہیں، ہفتہ کے روز متعدد یونیورسٹیوں میں زبردست احتجاج کیا گیا اور حکومت کے جابرانہ طرز عمل کی شدید مذمت کی۔دارالحکومت تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں طلبہ نے حکام کی جانب سے اپنے متعدد ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی دھرنا دے دیا۔تہران کی علامہ طباطبائی یونیورسٹی میں بھی فیکلٹی آف آرٹس کے طلبہ نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے کالج کو نارنجی رنگ کی علامتوں سے سجا دیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی “ھرانا” نے “اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی” کے سینکڑوں طلبا کے مارچ کے مناظر بھی شائع کیے جو ایرانی حکام کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔دوسری طرف اسلامی تنظیموں کے طلبہ کی یونین نے تصدیق کی کہ تہران کی “یونیورسٹی آف سائنس اینڈ کلچر” کے طلبہ نے صوبہ کردستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک مظاہرہ کیا اور صوبے میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کے قتل کی شدید مذمت کی۔

البرز صوبے میں خوارزمی یونیورسٹی نے ایرانی صوبوں کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک طلبہ مارچ کا انعقاد کیا تھا جس میں مظاہرین نے حکام کے خلاف نعرے بازی کی۔ہفتہ کو رات گئے تک مظاہرے جاری رہے، اصفہان میں سٹیل اور لوہے کے کارخانے کے مزدوروں نے بھی مارچ کیا۔مظاہرین نے صوبہ بوشہر کے شہر برزجان میں باسیج کے ہیڈکوارٹر کو بھی آگ لگا دی اور تہران کے جنوب میں قرچک میں قاسم سلیمانی کی تصویر کو نذر آتش کیا۔