LEGACY OF A GENERAL: Bajwa leaves country and army divided

اسلام آباد:پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سرکاریہ کریم کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک جس خراب سیاسی حالات سے دوچار ہے اس کی ذمہ داری جنرل باجوہ کوقبول کرنی چاہیے۔ان کا کہنا ہے درحقیقت، باجوہ نے فوج پر سیاسی غصے کو بھڑکانے کا وئی موقع نہیں چھوڑا اور آج وہ اس غصہ کو ھڑکاتے ہوئے ملک کو گہری تقسیم میں چھوڑ کر گئے ہیں – 1971 کی جنگ کے بعد سے ملک کا سب سے طاقتور ادارہ شاذ و نادر ہی تنقید اور تذلیل کا شکار رہا ہے جتنا کہ آج ہے۔

ڈاکٹر کریم نے دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک قوم اور اس کی فوج کو منقسم چھوڑ کر جا رہے ہیں، ایک تقسیم جس کے وہ اس وقت سے ہی ذمہ دار ہیں جب سے کہ انہوں نے 2016 میں فوج کی سربراہی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اپنے آخری خطاب میں باجوہ نے خود اعتراف کیا کہ فوج کے خلاف عوام کا غصہ زیادہ تر اس کے سیاسی کردار کی وجہ سے تھا۔ یہ شاید پاکستان کے کسی حاضر سروس سی او اے ایس کا شاذ و نادر دیا گیا بیان ہو سکتا ہے، لیکن اس سے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں ہوتی او نہ ہی بھروسہ ملتا ہے کہ فوج نے حالیہ مہینوں کے ہنگاموں اور عوامی تذلیل و تنقید سے کوئی سبق سیکھا ہے۔

اس معاملے میں باجوہ کا اپنا ریکارڈ انتہائی مایوس کن ہے۔ یہ باجوہ اور ان کے پیشرو راحیل شریف تھے جنہوں نے نواز شریف کی جگہ عمران خان کو بر سر اقتدار لانے کی سازش کی۔ شریف کو باجوہ اور ان کے ٹولے نے ملک سے باہر نکال دیا۔ عمران خان کی مخلوط حکومت کو برقرار رکھنے میں بھی باجوہ کا س وقت تک اہم کردار تھا جب تک کہ کئی معاملات میں خاص طور پر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کی تبدیلی کے معاملے پر دونوں میں تعلقات خراب نہیں ہو گئے۔ منیر اب نئے سی او اے ایس سلیکٹ ہیں۔