Rana Sana predicts NA election may face six-month delay

اسلام آباد:(اے یو ایس ) وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات مزید چھ ماہ ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت کو مزید چار سے چھ ماہ درکار ہوں گے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم چھ ماہ بعد پنجاب میں انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان مایوسی میں کیا تھا اور تحریک انصاف کا انجام بھی پیپلز پارٹی جیسا ہو سکتا ہے جو عام انتخابات کے بائیکاٹ کے بعد دوبارہ پنجاب میں داخل نہ ہو سکی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے ایک منٹ میں اسمبلی تحلیل کرنے کی بات پر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ ہمیں پتا ہے کہ پرویز الٰہی کو اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے وزارت اعلیٰ کے اختیارات کا استعمال کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنما اور کابینہ کے رکن قمر زمان کائرہ نے پیش گوئی کی ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان پر عمران خان یوٹرن لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان پر عمران خان کو اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی کی طرف سے مزاحمت یا اختلاف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں نئے انتخابات کے سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے وفاقی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر عمران خان حکم کریں تو ایک منٹ میں اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ راولپنڈی میں لانگ مارچ کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کرپٹ نظام سے خود کو علیحدہ کرے گی اور اس ضمن میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے گی۔چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ پنجاب حکومت، عمران خان کے اعتماد پر بنی ہے اور اگر وہ اعلان کریں گے تو ایک منٹ میں اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی نے فور ی طور پر ردعمل ظاہر کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کے اعلان پر وہ اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔