Taliban Requests Afghan Refugees to Abstain from Protesting in Pakistan and Iran

کابل:طالبان کی وزارت برائے مہاجرین اور وطن واپسی نے افغان مہاجرین سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان اور ایران میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لینے سے گریز کریں۔ طالبان کے نائب وزیر برائے امور مہاجرین اور واپسی عبدالرحمن راشد کے مطابق افغان مہاجرین سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ احتجاج میں شرکت نہ کریں کیونکہ وہ پاکستان اور ایران کے داخلی معاملات ہیں۔

طالبان کے نمائندے نے 23 نومبر کو جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مظاہرے ان کے (ایران اور پاکستان کے) خانگی معاملات ہیں، ان کے لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، اپنی زندگی کو برباد نہ کریں۔ 22 سالہ ایرانی دوشیزہ مہسا امینی کی لازمی حجاب کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے اخلاقی پولس کی حراست اور پھر دو روز بعد پولس حراست میں ہی موت ہوجانے بعد سے ایرانی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا ایک بے مثال بھڑک اٹھا جسے 1979 کے انقلاب کے بعد قیادت کے خلاف اب تک سب سے بڑا احتجاج بتایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے امور پناہ گزیں (یو این ایچ سی آر) کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کے بر سر اقتدار آنے سے پہلے، 3.4 ملین افغان پناہ گزیں، جن میں سے تقریباً 20 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن تھے،ایران میں رہائش پذیر تھے۔