Pakistan FM travels to Kabul, meets Taliban amid border tensions

پشاور:(اے یو ایس ) پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اعلان اور سرحد پر کشیدگی کے سائے میں پاکستان کی وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھرفوراً افغانستان کے دورے پر روانہ ہو گئیں اور افغانستان کے دارالخلافہ کابل میں اسلامی امارات کے نگراں وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات یکی۔ واضح ہو کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)نے جنگ بندی معاہدہ توڑ کر اپنے انتہاپسندں کو پاکستان بھر میں حملوں کا حکم دے دیاہے ۔ٹی ٹی پیرہنماؤں نے کہا کہ ہم نے بار بار خبر کردیا کیا ہے اورصبرسے کام لیا ہے ہم پر حملے کئے اور اب ہماری انتقامی کارروائی دےکھیں۔ ادھر پاکستان نے جنگجوﺅں کے خلاف کارروائی کرنے کا پلان بنا یا ہے۔

وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر کو افغانستان بھےجا گیا ہے کہ تا کہ وہ طالبان کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کریں۔ ٹی ٹی پی نے کچھ عرصے تک پاکستان کی دشوار گزار قبائلی پٹی کے وسیع علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھا تھااور وہاں اپنی عمل داری قائم کررکھی تھی۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے وفاق کے زیرانتظام سابق قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ ڈیڑھ ایک عشرے کے دوران میں مختلف کارروائیاں کی ہیں اور 2010 سے انھیں بڑے پیمانے پر پاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا ہمسایہ جنگ زدہ ملک افغانستان میں راہ فرار اختیار کرنے پر مجبورکردیا تھا لیکن کابل میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی سے ایک مرتبہ پھر ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔کالعدم ٹی ٹی پی نے جون میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی پراتفاق کیا تھا لیکن دونوں فریقوں نے بار باریہ دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کو نظرانداز کیا گیا ہے اورجنگجوؤں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ سابق قبائلی علاقوں میں متعدد خونریزجھڑپیں ہوچکی ہیں۔جنگجوؤں نے پاک فوج اور پولیس پر حالیہ ہفتوں میں متعدد تباہ کن حملے بھی کیے ہیں۔