PML-N to 'do all it can' to foil Punjab Assembly dissolution

لاہور:(اے یو ایس ) پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے تمام دستیاب حربے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے پارٹی کے صوبائی اراکین اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی اور ’کسی بھی قیمت‘ پر عمران خان کا اسمبلی تحلیل کرنے کا مجوزہ منصوبہ ناکام بنانے کا عہد کیا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے، گورنر راج کے نفاذ، گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے امکانات پر غور کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی گئی کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیس میں اپنے فیصلے کے خلاف حمزہ شہباز کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کرے۔ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ڈان کو بتایا کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے کیس میں فیصلے کے خلاف اپنی درخواست کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے جارہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 26 جولائی کو اس وقت کے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔22 جولائی کو دوست محمد مزاری نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے دوران پرویز الٰہی کے حق میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹوں کو مسترد کردیا تھا۔

رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرے جہاں ہم عدالت کو بتائیں گے کہ عمران خان کے کہنے پر وزیر اعلیٰ بغیر کسی معقول وجہ کے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اپوزیشن، پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاسکتی ہے اور گورنر سے ان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان اختیارات کے خلاف آئین میں کوئی شق موجود نہیں تھی۔