Police Bust Cocaine "Super-Cartel" In Dubai, Europe

ابوظبی:(اے یوایس ) متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اوروزیر داخلہ شیخ سیف بن زایدآ ل نہیان نے منشیات کے عالمی سرغنوں اور بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کے49ارکان کی گرفتاری کوسراہا ہے۔یہ گرفتاریاں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ کی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہیں۔ان کی نمائندگی دبئی پولیس جنرل کمان اور یورپی یونین کی ایجنسی برائے نفاذِقانون اورتعاون (یوروپول)اور بیرون ملک قانون نافذکرنے والے اداروں نے کی ہے۔ان کی اس کارروائی کوآپریشن ڈیزرٹ لائٹ کانام دیا گیا ہے۔

شیخ سیف آل نہیان نے اس کارروائی کی کامیابی کو بین الاقوامی سطح پرمنی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم سے نمٹنے کے لیے شریک ممالک کے درمیان نتیجہ خیز بین الاقوامی تعاون اورکوششوں کا نتیجہ قراردیا ہے۔انھوں نے دنیا میں تحفظ اورسلامتی کو یقینی بنانے کی غرض سے مختلف ممالک کی پولیس ایجنسیوں کے ساتھ فعال مواصلاتی چینلزکو برقرار رکھنے کے لیے یواے ای کی دلچسپی کا اعادہ کیا ہے۔یورپی یونین کی پولیس ایجنسی یوروپول نے ایک بیان میں کہا کہ اس بڑے بین الاقوامی آپریشن کے دوران میں 30 ٹن منشیات ضبط کی گئی ہےاور فرانس، اسپین، بیلجیئم اورنیدرلینڈزمیں بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

یوروپول نے کہا کہ دبئی نے ”اعلیٰ قدری اہمیت کے حامل“ دومشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان کا تعلق نیدرلینڈز سے ہے، دیگر دو کا تعلق اسپین سے ہے اور دو کا تعلق فرانس سے ہے۔یوروپول کے ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ہالینڈ کے مشتبہ افراد میں سے ایک بہت بڑی مچھلی ہے۔اس آپریشن کے تحت اسپین میں 13، فرانس میں 6 اور بیلجیئم میں 10 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے جبکہ اسی کارروائی کے تحت 2021 میں نیدرلینڈز میں 14 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔دبئی پولیس کے کمانڈرانچیف لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ خلیفہ المری نے وضاحت کی کہ آپریشن’ڈیزرٹ لائٹ‘ اسپین،فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور متحدہ عرب امارات میں یوروپول کی مدد سے لاطینی امریکا اور یورپ کے درمیان بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے جرائم میں ملوث اس مجرمانہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے خلاف متوازی تحقیقات کا نتیجہ تھا۔