Sweden, Finland and Turkey have made progress on NATO membership, Sweden says

استنبول:(اے یو ایس )سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے کہا کہ سویڈن اور فن لینڈ نے شمالی ممالک کی ناٹو میں شمولیت کے حوالے سے ترکی کے ساتھ معاہدہ کرنے کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے۔ بلسٹروم نے بدھ کو بخارسٹ میں ناٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوسرے دن 30 نومبرکو بخارسٹ پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل ہماری سویڈن، فن لینڈ اور ترکی کے ساتھ بہت اچھی دو طرفہ بات چیت رہی اور اس ملاقات کے بعد میں محسوس کیا کہ اس میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

قبل ازیں منگل کے روزترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤوش اوگلو نے کہا تھا کہ وہ منگل کو بخارسٹ میں ناٹواتحاد کے اجلاس کے موقع پر اپنے سویڈش اور فن لینڈ کے ہم منصبوں سے ناٹو میں شمولیت کے لیے ان ممالک کی درخواستوں پر بات چیت کریں گے۔نجی ترک ٹی وی چینل این ٹی وی نے چاووش اوگلو کے حوالے سے بتایا کہ “ہم (منگل) کو بخارسٹ میں سویڈش اور فن لینڈ کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔ یہ بات چیت سہ فریقی کوآرڈینیشن کے فریم ورک کے اندر ہو گی۔ ترکی نے ناٹو میں شامل ہونے کے امیدوار سویڈن اور فن لینڈ پر ’پی کے کے‘ اور اس کے اتحادیوں جیسے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ساتھ نرمی برتنے کا الزام لگایا ہے۔

چاؤوش اوگلو نے کہا کہ ایکشن مثبت طور پر پیشرفت کر رہا ہے، لیکن ابھی بھی اقدامات کرنا باقی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت میں سویڈن وہ ملک ہے جسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ سویڈن اور فن لینڈ نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے آغاز کے بعد ناٹو میں شامل ہونے کی خواہش کا اعلان کرتے ہوئے غیر جانبداری کی اپنی روایتی پالیسی کو ترک کر دیا تھا۔سویڈن کے نئے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے اس ماہ کے شروع میں ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کے لیے انقرہ کا دورہ کیا تھا اور سویڈن کو ترکی کی طرف سے ناٹومیں شمولیت کی حمایت کی امید تھی۔اس سفر سے پہلے ناٹوکے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ جنہوں نے استنبول میں چاو¿وش اوگلو اور اردوغان سے ملاقات کی تھی کہا کہ دونوں ممالک ترکی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔