Iranian man, 27, shot dead for celebrating team’s World Cup exit

تہران:فیفا ورلڈ کپ 2022کے امریکہ کے خلاف اپنے آخری گروپ میچ میں شکست کھا کر ایران کی پری کورٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میںناکامی پر اظہار مسرت کرنے اور جشن منانے والے ایک ایرانی کو سلامتی دستوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا واضح ہو کہ اس میچ سے قبل اور بعد میں بھی قطر کے اسٹیڈیم کے اندر اور باہر احتجاج کیا گیا جبکہ ایران بھر میں حکومت مخالف مظاہرے پہلے ہی گذشتہ دو ماہ سے جاری ہیں ۔ یاد رہے کہ منگل کو کھیلے گئے اس تناؤ بھرے میچ میں امریکا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایران کو 0-1 سے شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کردیا تھا ۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق 27 سالہ مہران سماک کو تہران کے شمال مغرب میں بحیرہ کیسپین کے ساحل پر واقع شہر بندر انزالی میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ میچ میں ایران کی شکست کے بعد اپنی کار کا ہارن بجاکر خوشی کا اظہارکر رہا تھا۔ اوسلو میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس نے کہا کہ سلامتی دستوں نے براہ راست نشانہ باندھ کراور سمارک کے سر میں گولی ماری ۔ 40 سال سے زیادہ عرصہ قبل سفارتی تعلقات منقطع کرنے والے ایران اور امریکہ کے درمیان یہ میچ ایران میں ایک22سالہ دو شیزہ کے اپنے والدین کے ساتھ تہران میں بے حجاب گھومنے کی پاداش میں گرفتاری اور پھر پولس حراست میں موت ہوجانے کے باعث جاری مظاہروں کے پس منظر میں کھیلا جا رہاتھا۔ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ایران کے سلامتی دستوں کے ہاتھوں اب تک کم از کم 448 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیںجن میں 18 سال سے کم عمر کے 60 بچے اور 29 خواتین شامل ہیں۔