Pakistan suicide bombing kills four and injures more than 20

اسلام آباد: کالعدم دہشت گرد گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حکومت پاکستان سے جنگ بندی معاہدہ توڑے جانے اور ٹی ٹی پی کی اپنے انتہاپسندوں کو ملک گیر پیمانے پر دہشت گردانہ حملے شروع کرنے کی ہدایت کے بعد ملک میں پہلا خود کش دہشت گردانہ حملہ اس وقت ہوا جب بدھ کے روز بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ کے علاقہ بولیلی میں ایک خودکش بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ۔

پولیس گشتی پارٹی کو نشانہ بنانے والے حملے کا نشانہ بننے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ کوئٹہ میں صوبائی حکومت کے ترجمان عبدالحق نے یہ تصدیق کرتے ہوئے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا رائٹرز کو بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں اس پولس پارٹی کے، جو کوئٹہ میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کو لے جانے کے لیے تیار تھی، 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے،جس نے اگست میں افغانستان کے پکتیکا صوبے میں ایک بم دھماکے میں ا پنے سابق ترجمان کی ہلاکت کا انتقام لینے کا الان کیا تھا، اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) پولیس کوئٹہ اظفر مہسر نے جائے وقوعہ پر میڈیاکے نمائندں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 24 افراد زخمی ہوئے جن میں 20 پولیس اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خودکش دھماکہ مں 25 کلو گرام دھماکہ خیز مادہ استعمال ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس اہلکار پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے جا رہے تھے۔ڈی آئی جی اظفر مہسر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حملے کا اصل ہدف پولیس کا وہ ٹرک تھا جس میں پولیو ٹیم کے ساتھ پولس اہلکار جا رہے تھے لیکن مزید دو گاڑیاں بھی جو غیر فوجی تھیں، بھی دھماکے کی زد میں آگئیں ۔