As sanctions tighten, Russia asks India for parts in key sectors

ماسکو:: یوکرین جنگ کی وجہ سے پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس نے اہم شعبوں میں اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے ہندوستان سے مدد ما مانگتے ہوئے کو ممکنہ ترسیل کے لیے 500 سے زائد مصنوعات کی فہرست ہندستان کو بھیجی ہے، جن میں کاروں، ہوائی جہازوں اور ٹرینوں کے پرزے بھی شامل ہیں۔ اس معاملے سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ روس نے ہندوستان کو 500 سے زائد مصنوعات کی فہرست بھیجی ہے جو روس کو برآمد کی جا سکتی ہیں کیونکہ پابندیاں روس کی اہم صنعتوں کو چلانے کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے اس کی صنعتیں چلانے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے جس کے پیش نظر وہ انہیں ہندوستان سے درآمد کرنا چاہتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فہرست میں یہ واضح نہیں ہے کہ ہندوستان کتنی اشیا اور کتنی تعداد میں برآمد کرے گا لیکن حکومت ہند کے ایک ذریعہ نے کہا کہ یہ درخواست غیر معمولی تھی۔ ذرائع نے کہا کہ ہندوستان اس طریقے سے اپنی تجارت بڑھانے کا خواہشمند ہے کیونکہ وہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کچھ کمپنیوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کر سکتی ہے۔ روس میں صنعت کے ایک ذریعے نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ روس کی وزارت صنعت و تجارت نے بڑی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ فہرست میں شامل خام مال اور آلات فراہم کریں ۔

مغربی ممالک کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں روس کی کھیپ کی حکمت عملی میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اپریل میں شروع ہونے والے رواں مالی سال کے پہلے 7 مہینوں میں روس سے ہندوستان بھیجے جانے والے اسٹیل کی مقدار 1,49,000 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ ایک سال قبل اسی عرصے میں تقریبا 34,000 ٹن اسٹیل ہندوستان آیا تھا۔ہندوستان کی کل درآمدات میں روس کا حصہ تقریبا 5 فیصد ہے، لیکن وہ ٹاپ 5 برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ اپریل اور اکتوبر کے درمیان ہندوستان کی کل اسٹیل کی درآمدات 3.2 ملین ٹن رہی جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 14.5 فیصد زیادہ ہے۔ جنوبی کوریا نے ہندوستان کو 1.3 ملین ٹن ا سٹیل برآمد کیا۔ یہ ملک کی کل خریداری کا 41 فیصد ہے۔ اپریل اور اکتوبر کے درمیان ہندوستان اسٹیل کے خالص برآمد کنندہ کے طور پر ابھرا، حالانکہ برآمدی ٹیکس اور عالمی طلب میں سست روی کی وجہ سے کل ترسیل نصف سے بھی کم ہوگئی۔