Emigrants are exploited not only inQatar in USA too

واشنگٹن:(اے یوایس ) امریکہ میں تارکین وطن کارکنوں کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ بدسلوکی صرف بیرون ملک ہی نہیں خود امریکہ میں بھی غیر ملکی تاریک وطن کا استحصال ہورہا ہے ۔نیشنل فارم ورکر منسٹری کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جولی ٹیلر نے نارتھ کیرولائنا میں وزارت کے ہیڈ کورٹرز سے وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں تارکین وطن کارکن بہت سے ایسے ہی مسائل سے نبردآزما ہیں جن کا قطر میں وہ کارکن سامنا کر رہے تھے۔واضح رہے کہ قطر مےں ہونے والے میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ سلوک کو اجاگر کیا گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر ایونٹ کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے دوران بہت سے عارضی طور پر کام کرنے والے غیر ملکی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔۔ان مسائل میں شدید گرمی کے دوران کام پر مجبور کیا جانا، اجرت کی عدم ادائیگی یا کٹوتی ، ناقص رہائش، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کا فقدان، ذاتی تحفظ کے آلات کی کمی شامل ہیں۔

ٹیلر نے کہا کہ قطر میں ہونے والے سانحے کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے، اور یہ امریکیوں کو ہمارے اپنے گھر میں ہونے والے سانحوں کی یاد دلانے کا ایک اہم موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں اور علاقوں میں، سرکاری ایجنسیاں اور علم بردار تنظیمیں تارکین وطن کارکنوں کے لیے پیش رفت کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، نیویارک میں گزشتہ سال، فارم ورکرز نے، جن کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی نژاد، عارضی مزدوروں کا ہے ، اجتماعی سودے بازی کے حقوق حاصل کیے جن کی مدد سے وہ زیادہ اجرتوں اور کام کے بہتر حالات کی بہتر وکالت کر سکیں گے۔گزشتہ ماہ نیو اورلینز میں،محنت کی اجرت اور کام کے گھنٹوں کی تقسیم سے متعلق امریکی محکمے، ڈپارٹمنٹ آف لیبرز ویج اینڈ آور ڈویژن نے میکسیکو کے قونصلی خانہ کے ساتھ ایک معاہدے کی تجدید کی تاکہ لوئی زیانا اور مسیسس سیپی میں ہسپانوی بولنے والے کارکنوں کو امریکہ میں ان کے حقوق کے ساتھ ساتھ تربیت تک رسائی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں مثلاً کارکن کی حفاظت کی تربیت۔

ویج اینڈ آور ڈویژن کے نیو آرلینز لوئی زیانا کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ٹرائے موٹن نے وی او اے کو بتایاکہ میکسیکن قونصلیٹ کے ساتھ شراکت داری سے، ہم آجر اور کارکن دونوں کو اپنی ذمہ داریوں اور اپنے حقوق کو سمجھنے کی صلاحیت کو بہتر بنا نے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ یہ معاہدہ معاشرے کے محنت کش پس ماندہ کارکنوں کو اپنےآجرو ں کی قانون کےمطابق ان کو اجرت ادا کرنے کی ذمہ داری کو سمجھنے میں مدد دے کر ان کے خلاف اجرت کی خلاف ورزیاں کم کرے گا۔تاہم کارکنوں کے حقوق کے علم بردار زور دے کر کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات کے باوجود مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔