India to resume work at 20 stalled projects in Afghanistan: says Taliban

کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستان جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان کے متعدد صوبوں میں کم از کم 20 رکے ہوئے منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کرے گا۔ جون میں، ہندوستان نے افغان دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے میں ایک تکنیکی ٹیم تعینات کر کے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی دوبارہ قائم کی ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہندوستان نے ان کی حفاظت سے متعلق خدشات کے بعد سفارت خانے سے اپنے اہلکاروں کو واپس بلا لیا تھا۔افغانستان کی وزارت خارجہ نے اس سال اگست میں کہا تھا کہ ملک میں ہندوستان کی سفارتی موجودگی کا نتیجہ نئی دہلی کی طرف سے شروع کیے گئے نامکمل منصوبوں کی تکمیل اور نئی شروعات کی صورت میں نکلے گا۔

ٹولو نیوز نے گذشتہ دنوںافغانستان کی شہری ترقی اور ہاؤسنگ کی وزارت کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا کہ ہندوستانی ناظم الامور بھرت کمار نے ملک میں تعلقات کو بہتر بنانے اور رکے ہوئے منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ کمار نے شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے وزیر حمد اللہ نعمانی کے ساتھ ملاقات کے دوران یہ ریمارکس دیئے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ملک میں ترقی کو فروغ ملے گا۔

رپورٹ میں ماہر معاشیات دریا خان بحر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ “ان منصوبوں کے دوبارہ شروع ہونے سے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور اس سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور افغانستان کو سیاسی تنہائی سے نکالا جا سکتا ہے۔” ایک اور ماہر معاشیات نازکمیر زرمل نے کہاان منصوبوں کے دوبارہ شروع ہونے سے غربت اور بے روزگاری کی سطح میں کمی آئے گی۔

بھارت نے افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ کابل میں حقیقی معنوں میں ایک جامع حکومت کے قیام پر زور دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان افغانستان کو درپیش انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے بلا تعطل انسانی امداد فراہم کرنے کی وکالت کرتا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، ہندوستان نے افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کی ہے اور پہلے ہی انسانی امداد کی کئی کھیپیں بھیجی ہیں، جن میں 20,000 میٹرک ٹن گندم، 13 ٹن ادویات، کوویڈ ویکسین کی 500,000 خوراکیں اور موسم سرما کے کپڑے شامل ہیں۔ یہ کھیپیں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں بشمول کابل میں اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال، عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے حوالے کی گئیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے افغانستان کو طبی امداد اور غذائی اجناس بھی بھیجے ہیں۔