Islamic State leader Abu Hasan al-Qurashi killed

دمشق:(اے یو ایس ) شام میں اکتوبر کے وسط میں ’داعش‘ کے رہنما ابو الحسن الہاشمی القرشی کو ہلاک کرنے والی جھڑپ میں شامل جنگجوؤں نے بتایا کہ القرشی نے شام کے شہر جاسم میں مقامی جنگجوو¿ں کے گھیرے میں آنے کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔امریکی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ القرشی شمال مغربی شام میں درعا گورنری میں حزب اختلاف کی فری سیریئن آرمی کے آپریشن میں مارا گیا۔داعش کے ترجمان نے بدھ کو ایک آڈیو بیان میں القرشی کے قتل اور ابو الحسین الحسینی القرشی کو ان کا جانشین منتخب کرنے کا اعلان کیا۔

تنظیم کے ترجمان ابو عمر المہاجر نے ٹیلی گرام پر داعش کے اکاو¿نٹس سے نشر کی گئی ایک تقریر میں مزید کہا کہ ان کا لیڈر لڑائی کے دوران مارا گیا تھا۔ تاہم بیان میں اس کی موت کی جگہ یا وقت نہیں بتایا گیا۔شامی فوج نے 2018 میں روس کی ثالثی میں ہونے والے مفاہمتی معاہدوں اور جنوب میں دمشق کا کنٹرول بحال کرنے کے بعد درعا گورنری کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ القرشی اور ان کے ساتھیوں کو ایک گھر میں خفیہ ٹھکانے میں دیکھا گیا۔ ذرائع میں فری سیرین آرمی کا ایک جنگجو اور جھڑپ میں مارے گئے اس کے ساتھیوں کے رشتہ داروں کے علاوہ جاسم شہر کے کچھ رہائشی بھی شامل تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ٹھکانے پر حملہ کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد داعشی لیڈر اور اس کے ایک ساتھی نے خود کو دو دھماکہ خیز بیلٹوں سے اڑا لیا۔ جاسم کے رہنے والے سالم الحوریانی جو ایک سابق جنگجو ہیں نے بتایا کہ داعشی سیل کا پتا چلنے کے بعد تین مکانات کا محاصرہ کیا گیا تھا۔یہ تنظیم پڑوسی ملک عراق میں خانہ جنگی کے انتشار سے ابھری اور 2014ئ میں عراق اور شام میں بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تنظیم کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی نے شمالی شہر کی ایک مسجد سے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔گزشتہ مئی میں یہ اطلاع ملی تھی کہ تنظیم کے سربراہ زید العراقی عرف ابو الحسن الہاشمی القرشی کو استنبول میں کیے گئے ایک سکیورٹی آپریشن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ابو الحسن نے تنظیم کی قیادت تین فروری کو شامی سرزمین پر امریکی سکیورٹی آپریشن میں اس کے سابق سربراہ ابو ابراہیم القرشی کی ہلاکت کے بعد سنبھالی تھی۔