NATO Foreign Ministers end meetings in Bucharest with focus on China, more support for partners

جنیوا:(اے یو ایس ) چین کی طرف سے درپیش طویل المدتی چیلنجز نیز روسی دباو¿ کا سامنا کرنے والے اتحادیوں کی حمایت کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ بخارسٹ میں ناٹو کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس بدھ کے روز اختتام پذیر ہوگیا۔ناٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ناٹو یورپ اور شمالی امریکہ کا اتحاد ہے، لیکن ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ عالمی ہیں، اور ہمیں ناٹو میں رہتے ہوئے ان سے نمٹنا چاہئے ۔اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ہمیں یوکرین کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم جو دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ صدر پوتین موسم سرما کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے یوکرین کے عوام کو بہت زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہے۔

ناٹو سربراہ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین یوکرین پر حملے میں اپنے ملک کی ناکامیوں کا جواب یوکرین کے شہریوں کو پانی، بجلی اور سردیوں میں حرارت سے محروم کرنے کی کوشش کر کے دے رہے ہیں۔قبل ازیں دو روزہ مذاکرات کے آغاز سے قبل بات کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے کہا تھاکہ وہ اجلاس سے اس پیغام کی توقع کرتے ہیں کہ جب یوکرین کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت اور یوکرین کو روسی فضائی حملوں سے زیادہ دفاع فراہم کرنے کی بات ہو تو تمام اتحادی مزید کچھ کرنے پر تیار ہوں گے۔

بخارسٹ میں، اسٹولٹن برگ نے رپورٹروں کو بتایا کہ یوکرین پر روسی میزائل حملوں سے جو کچھ تباہ ہواہے اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے بہت بڑے کام کا سامنا ہے۔اسٹولٹن برگ نے کہا، “ہم نے یوکرین کو جنریٹر اور فاضل پرزے فراہم کر دیے ہیں، اور اتحادی تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں مدد کر رہے ہیں۔اسٹونیا کے وزیر خارجہ ارماس رینسالو نے رائٹرز کو بتایا کہ اس دورے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ یوکرین کو یہ جنگ جیتنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مغربی حمایت بھی مضبوط ہونی چاہیے۔ بغیر کسی سیاسی شرط کے زیادہ بھاری ہتھیار، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں،فراہم کیے جانے چاہئیں۔