UK kicks out China from Nuclear Project after Rishi Sunak Says 'Golden Era' Between the 2 nations is over

لندن : برطانیہ کے نئے وزیر اعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات کا نام نہاد سنہری دور ختم ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ترقی کے لیے برطانیہ کے ملک کے تئیں برطانیہ کے حالات کو سلجھانے کا عزم کرتے ہوئے چائنا جنرل نیوکلیرکو اپنے نئی سئز ویل نیوکلیائی پاور اسٹیشن سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔یوکے نے اب فرنس کے ای ڈی ایف کے ساتھ مشترکہ پراجکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اپنی پہلی خارجہ پالیسی تقریر میں مسٹر سونک نے کہا کہ گذشتہ عشرے کے قریبی اقتصادی تعلقات بہت بھدے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کو مد مقابلوں کے تئیںقطعی حقیقت پسندی کے ساتھ من پسندانہ نظریہ کو بدلنا ہوگا۔ لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ چین کی عالمی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا سرد جنگ کے حوالے سے بیان بازی کے خلاف انتباہ دیا ۔ مسٹر سونک کو ، گزشتہ ماہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی چین کے بارے میں برطانیہ کے موقف کو سخت کرنے کے لیے ٹوری اراکین پرلیماں کے زبردست دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی یہ تقریر ، جولندن میں لارڈ میئر کی جانب سے دی گئی ضیافت کے موقع پر کی گئی، چینی حکومت کے سخت کوویڈ لاک ڈاؤن قوانین کے خلاف ہفتہ اختتام میں چین میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے۔جس کے دوران پولیس نے متعددافراد کو گرفتار کیا اور بی بی سی کے ایک صحافی کو بھی اتوار کو شنگھائی میں ایک احتجاج کی کوریج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

گرفتاری کے دوران اسے پولیس نے لاتوں گھونسوں سے مارا اور رہا کرنے سے پہلے کئی گھنٹے تک قید میں رکھا۔ مسٹر سنک نے کاروباری رہنماو¿ں اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کے سامعین کو بتایا کہ احتجاج کے پیش نظر، چین نے مزید کریک ڈاو¿ن کیا جس میں بی بی سی کے ایک صحافی پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ چین ہماری اقدار اور مفادات کے لیے ایک منظم چیلنج ہے جو ایسا چیلنج ہے جو اس سے بھی زیادہ مطلق العنانیت کی طرف بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید شدید ہوتا جا رہا ہے ۔