Pak envoy unhurt in Kabul gun attack

کابل: یہاں پاکستان کے سفیر متعین افغانستان عبید الرحمٰن نظامی اس وقت دہشت گردانہ حملہ میں بال بال بچ گئے جب نامعلوم بندوق برداروں نے انہیں نشانہ بنا کر پاکستانی سفارت خانے پر فائرنگ کر دی۔ اس حملہ میں ایک سیکورٹی گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ کابل پولس کے ایک ترجمان نے کہا کہ حملہ ہوتے ہی سلامتی دستوں نے ایک قریبی عمارت میں پوزیشن سنبھال لی اور فائرنگ کرنے والوں کو گولی باری بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں سلامتی دستوں نے ایک مشتبہ کو گرفتار کر لیا او راس کے قبضہ سے دو ہلکے ہتھیار بر آمد کر لیے۔ سفارت خانے کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ بندوق بردار جو تنہا تھا قریبی واقع مکانات کی آڑ میں چھتوں چھت آیا اور فائرنگ شروع کر دی ۔

انہوں نے کہا کہ سفیر اور دیگر تمام عملہ محفوظ ہے لیکن ہم احتیاطاً سفارت خانے کی عمارت سے باہر نہیں جا رہے ۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے کہا کہ نظامی کو ہدف بنا کر کیا گیا تھا جو محفوظ رہے۔ البتہ اسرار محمد نام کا ایک پاکستانی سیکیورٹی گار ڈسفیر کی حفاظت کرتے ہوئے شدید زخمی ہو گیا۔ ترجمان نے کہا کہ ’کابل میں ہمارے مشن پر آج ہونے والے حملے میں زخمی سیکیورٹی گارڈ اسرار محمد کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر پشاور لینڈ کر گیا۔ اسلامی امارات کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبد اقہار بلخی نے ٹوئیٹر کے توسط سے کہا اسلامی امارات نے پاکستانی سفات خانہ پر حملہ کی شدید مذمت کی اور زخمی سپاہی کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے بھی سخت مذمت کی ۔ دریں اثنا افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ کابل میں ان کی جماعت حزبِ اسلامی کے دفتر کے قریب خودکش حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے ۔