Rise in Iranian assassination, kidnapping plots alarms Western officials

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ مظاہرین کے خلاف اندرونی کریک ڈاو¿ن کے بعد مغربی حکام اور ایرانی مخالفین کو قتل کرنے کے ایرانی حکومت کے منصوبوں کی تفصیلات سامنے لایا ہے۔ اخبار اس حوالے سے دستاویز بھی سامنے لایا ہے۔حکام اور سرکاری دستاویزات کے مطابق تہران نے جن لوگوں کو نشانہ بنایا ہے ان میں امریکی حکومت کے سابق اعلیٰ اہلکار اور ایسے ایرانی مخالفین شامل ہیں جو امریکہ، برطانیہ، کناڈا، ترکی اور یورپ فرار ہو چکے ہیں۔ٹارگٹ لسٹ میں ایرانی حکومت پر تنقید کرنے والی میڈیا تنظیمیں ، یہودی شہری یا اسرائیل سے تعلقات رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔واضح رہے 2021 کے موسم گرما میں کناڈا کے سکیورٹی انٹیلی جنس افسران نے رامین سید امامی کے وینکوور گھر کو دکھایا تھا ، سید امامی ایک ایرانی- کناڈیائی موسیقار اور فنکار ہیں جو فارسی زبان کے ایک مشہور پوڈ کاسٹ کی میزبانی کرتے ہیں۔

سید امامی اکثر ایران کے اندر سے مہمانوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ وہ قدامت پسند ایرانی ثقافت میں جنسی اور ذہنی صحت اور مذہبی عقیدے کو نقصان جیسے ممنوع موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں۔سید امامی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ایک افسر نے انہیں بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے بیرون ملک مقیم لوگوں کی ایک فہرست تیار کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حکومت اپنے خطرہ سمجھتی ہے، اس افسر نے مجھے بھی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا بھی کہا۔حکومتی دستاویزات اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واشنگٹن، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے 15 افراد نے اپنے انٹرویوز میں بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں سرکاری اہلکاروں، کارکنوں اور صحافیوں کو اغوا اور قتل کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔تہران کی سازش میں امریکی حکومت کے سابق اعلیٰ عہدیداروں اور ایسے مخالفین کو نامزد کیا گیا ہے جو ملک چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ، کناڈا ، ترکی اور یورپ چلے گئے۔

ایرانی حکومت کا سب سے بڑا ہدف حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا ادارے ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور یہودی یا اسرائیل سے تعلقات رکھنے والے افراد ہیں۔حکام نے کہا کہ ایران کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروسز اپنے منصوبوں کو انجام دینے کے لیے بیرونی ایجنٹوں پر انحصار کرتی ہیں۔ ایرانی حکام قتل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گروہوں، منشیات فروشوں اور دیگر مجرموں کو بھاری رقوم فراہم کرتے ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ ایران کےناقص طریقہ کار کے باعث بہت سے آپریشنز کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان منصوبوں میں سے بہت سے منصوبوں پر کام اس وجہ سے رک گیا کہ کرائے پر بھرتی افراد نے آپریشن کرنے سے انکار کردیا یا یہ افراد احکامات پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے خوفزدہ ہوگئے تھے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں ایران کے ساتھ براہ راست مغربی تصادم کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت اپنے بڑے مخالفین، صحافیوں یا مغربی حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے پر اصرار کررہی ہے۔حکام نے کہا کہ ایران کی سکیورٹی سروسز چار دہائیوں قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بیرون ملک قتل و غارت گری کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔حال ہی میں، بالخصوص 2015 اور 2017 کے درمیانی عرصہ میں، ایران نے مغربی یورپ میں تین مخالفوں کو قتل کیا، جن میں ایک ایرانی عرب کارکن بھی شامل ہے جسے ہیگ میں اس کے گھر کے سامنے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ ڈچ حکام نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ ایک اور قتل کی سازش اور یورپ میں بم حملوں کی کوششوں میں ملوث ہے۔2018 میں ویانا میں مقیم ایک ایرانی سفارت کار کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر بلجیم میں ایک ایرانی جوڑے کو بھرتی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس ایرانی جوڑے کو اس لئے بھرتی کیا گیا تھا کہ وہ پیرس میں ایک ایرانی اپوزیشن گروپ پیپلز مجاہدین کی ریلی میں بم نصب کر سکے۔حکام کے مطابق گزشتہ دو برس میں ایران کے ایسے منصوبوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوگیا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔