U.S. hits Hezbollah accountants in Lebanon with terrorism sanctionsó

واشنگٹن:(اے یو ایس) امریکہ نے لبنانی حزب اللہ گروپ کو مالیاتی خدمات فراہم کرنے اور گروپ کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں افراد اور کمپنیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے حزب اللہ کو مالیاتی خدمات فراہم کرنے پر لبنان میں مقیم دو افراد اور دو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ گروپ کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں سہولت کاری میں ملوث ایک اور شخص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔یاد رہے گروپ کی بنیاد 1982 میں ایرانی پاسداران انقلاب نے رکھی تھی اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس گروپ کو “دہشت گرد تنظیم” کے طور شمار کرتے ہیں۔

غیر ملکی اثاثوں کو کنٹرول کرنیوالا دفتر عام طور پر امریکیوں یا امریکہ کے اندر ان تمام لین دین کو ممنوع قرار دیتا ہے جو ملوث اداروں کی کسی بھی جائیداد یا مفادات سے متعلق ہوں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سے ایک عادل محمد منصور حزب اللہ کے زیر انتظام ایک نیم مالیاتی ادارے کی قیادت کرتا تھا، حسن خلیل حزب اللہ کے لیے ہتھیار خریدنے کا کام کرتا تھا اور ناصر حسن جو اس گروپ کو مالی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے ساتھ کام کرتا تھا۔گزشتہ ماہ بھی امریکہ نے تیل کی سمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حزب اللہ اور ایرانی قدس فورس کی حمایت کرتا ہے