Facing Intl Condemnation, Islamic Emirate Defends Sharia Executions

کابل:افغانستان میں قتل کے ایک مجرم کو سزائے موت دیے جانے پر عالمی پیمانے پر ردعمل ظاہر کیے جانے کی روشنی میں امارت اسلامیہ نے کہا ہے کہ مجرموں کو سزائے موت دینا حکم الٰہی ہے اور کسی کو اس معاملہ پر فکرمند ہونے یا تشویش ظاہر نہیں کرنی چاہیے۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ بدھ کے روز مغربی صوبے فراہ میں یہ سزائے موت ،کئی تحقیقات اور جائزوں کے بعدجو کہ اسلامی (قانون) کے مطابق تھیں دی گئی۔ لہٰذا کسی کو اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا احترام کرنا چاہیے۔

امارت اسلامیہ کے ایک سینئر رکن محمد اسماعیل رحمانی نے کہاکہ رہبر اعلیٰ نے خطاب کیا اور کہا کہ ہم نے اسلامی نظام کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے 20 سال تک جدوجہد کی ہے۔ اور اب جب کہ خدا نے ہمیں عنایت کر دیا ہے خدا ہم سے اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم اس کے احکامات پر عمل آوری یقینی بنائیں واضح ہو کہ قتل کے ایک مجرم کو سپریم کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت اور اس پر عمل آوری کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر ممالک کی طرف سے بڑے پیمانے پر ردعمل ظاہر کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی معاونت افغانستان میں مشن (یو این اے ایم اے) نے ٹویٹر پر کہاقوام متحدہ ہر حال میں سزائے موت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، اور حقیقی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر قانون بنائے۔ ایک سابق سفارت کار نے کہا(حد ) کا نفاذ ایک شرعی حکم ہے اور اس کا نفاذ ضروری ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب صورت حال اس کی ضمانت دے ۔