China calls for oil trade in yuan at Middle East summit

ریاض: صدر شی جن پنگ نے جمعہ کے روز خلیجی عرب رہنماؤں سے کہا کہ چین تیل اور گیس خریدنے کے لیے اپنی کرنسی یوآن کا استعمال کرے گا۔چین کے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر اپنی کرنسی کو بین الاقامیسطح پر مضبوط کرنے کے اور عالمی تجارت پر امریکی ڈالر کی گرفت کو کمزور کرنے کے اس کے مقصد کی تکمیل میں ممد و معاون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے مقصد کی حمایت کرے گا۔

شی سعودی عرب میں جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے چینی رہنما کے ساتھ دو سنگ میل عرب سربراہی اجلاسوں کی، جس میں طاقتور شہزادے کی علاقائی طاقت کو ظاہر کیا گیا کیونکہ وہ مغرب کے ساتھ قریبی تاریخی تعلقات سے بڑھ کر شراکت داری کرتے ہیں، میزبانی کی۔ شی جن پنگ کے دورے کے دوران ایک ایسے وقت میں جب انسانی حقوق، توانائی کی پالیسی اور روس پر امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کو آزمائے گئے ہیں، “عدم مداخلت” پرسعودی عرب اور شی کے ٹھوس پیغامات جاری کیے گئے۔ سعودی عرب کی طرف سے تیل کی تجارت میں ڈالرکے بجائے یو آن میں کرنے کا کوئی بھی اقدام جس کی سعودی عرب نے اوپیک کے ارکان پر عدم اعتماد کے مقدمات دائر کرنے کے لیے ممکنہ امریکی قانون سازی کے روشنی میں دھمکی دی تھی، ایک بھونچالی سیاسی اقدام ہو گا ۔

دریں اثنا شی نے دورہ سعودی عرب کے آخری روز 6 رکنی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہی اجلاس اور چین۔عرب رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ چین جی سی سی ممالک کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور خلیجی ریاستوں کے لیے ایک اجتماعی سیکیورٹی فریم ورک تیار کرے گا۔ شی نے یہ بھی کہا کہ چین مستقل بنیادوں پر جی سی سی ممالک سے بڑی مقدار میں خام تیل کی درآمد جاری رکھے گا علاوہ ازیں چینی صدر نے توانائی سمیت دیگر شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

شی نے کہا کہ چین خلیجی عرب ممالک سے بڑی مقدار میں تیل کی درآمد جاری رکھے گا اور رقیق قدرتی گیس کی درآمدات کو وسعت دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ممالک قدرتی شراکت دار ہیں جو تیل اور گیس کی پیداوار میں مزید تعاون کریں گے۔ شی نے مزید کہا کہ چین شنگھائی پٹرولیم اور نیشنل گیس ایکسچینج کا بھی تیل اور گیس کی تجارت یوآن میں کرنے کے تصفیہ کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بھرپور استعمال کرے گا۔