The bread is the main problem in Pakistan

شاہد ندیم احمد (پاکستان)
برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے اپنی خبر میں وزیر اعظم شہباز شریف پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان سے معافی مانگ لی ہے ،اس پر مسلم لیگ( ن)قیادت خوشی سے نہال ہور ہی ہے ،جبکہ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ لوگ مک مکا کرنے کے ماہر ہیں اور اس بار بھی یہی ہوا ہے،اس کیس میں کوئی جیتا یا ہارا نہیں ،بلکہ اس کیس میں بھی عدالت سے باہر مک مکا ہوا ہے،تاہم کیا عوام اب اِیسے کھیل تماشوں سے ہی خوش ہوتے رہیں گے کہ کون سی آڈیو لیکس سامنے آئی ہے یا کس اخبار نے حاکم ِ وقت سے معافی مانگی ہے؟اگر ڈیلی میل نے شہباز شریف سے معافی مانگ بھی لی ہے تو یہ دیکھنا ہے کہ اِس سے عوام کو کیا حاصل ہوا ہے؟یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں اور ان کے ہی کھیل تماشے ہیں،عوام کا مسئلہ تو آج بھی دال روٹی ہی ہے، بلکہ اب تو یہ روٹی دال بھی ا±ن کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اِس وقت آئے روز بڑھتی مہنگائی کے باعث ہر چیز غریب آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے،اگرصرف غریب آدمی کی بات کی جاتی ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ چند سو یا چند ہزار لوگ ہیں، اِس ملک میں غریبوں کی تعداد اب کروڑوں میں پہنچ چکی ہے، وہ لوگ جو غربت کی سطح سے کچھ اوپرسمجھے جاتے تھے، حالیہ مہنگائی نے انہیں بھی خطِ غربت سے نیچے پہنچا دیا ہے،یہ پہلا موقع ہے کہ اب مہنگائی تسلیم کرنے والے حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ہی موجود ہیں ،وگرنہ ایک زمانہ تھا کہ حکومت کبھی تسلیم ہی نہیں کرتی تھی کہ ملک میں غربت ہے،وہ خوشحالی کے ڈنکے بجاتی تھی، کیونکہ مہنگائی نے کبھی عفریت کی شکل اختیار ہی نہیں کی تھی ،لیکن اس وقت اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ حالات عوام کی دسترس سے باہر ہی نہیں ہوئے ہیں ،بلکہ عوام کی زندگی ایک عذاب بنتی جا رہی ہے۔

اتحادی قیادت عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے دعوﺅں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے ،مگر سات ماہ سے زائد عرصہ گرچکا ہے ،مہنگائی کم ہوئی نہ عوام کو کوئی رلیف ملا ہے ،اتحادی قیادت کے سارے دعوئے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی واپسی بھی کوئی کرشمہ دکھانے میں ناکام رہی ہے اوروہ خود ہی دہائی دیتے پھر رہے ہیں کہ مہنگائی واقعی بہت زیادہ ہے ، ا± س مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آ رہی ہے،اس لیے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں،اِن ملاقاتوں کا مقصد کچھ بھی ہوگا ،لیکن اِنہیں معیشت کی بحالی پرگفتگو کا رنگ دیا جارہا ہے،کیا صدرِ مملکت ماہر معیشت ہیں، جو انہیں معاشی بحران سے نکالنے کے گر بتائیں گے؟ اتحادی حکومت بد حال معیشت سے زیادہ صوبائی اسمبلیاں توٹنے کی فکر کھائے جارہی ہے،کیو نکہ اسمبلیاں ٹوٹیں تو ملک کے سیاسی حالات جو پہلے ہی دگرگوں ہیں، مزید خراب ہو جائیں گے ، اتحادی قیادت کیلئے حکومت چلانا ہی مشکل نہیں ہو گی،بلکہ عام انتخابات بھی کرونا پڑجائیں گے ۔اتحادی قیادت قبل از وقت انتخابات کروانے کے موڈ میں نہیں ہیں ،وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف واپس آ بھی جائیںتو انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں ہے ،اس لیے سیاسی و معاشی بحران جتنا مرضی بڑھتا چلا جائے،عوام کی عدالت میں نہیں جانا ہے ،ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آ گئے ہیں، حکومت سعودی عرب سے ایک اور بیل آؤٹ پیکیج دینے کی اپیلیں کر رہی ہے، کراچی کی بندرگاہ پر سامان سے بھرے کنٹینروں کا انبار لگ گیا ہے، جنہیں واگزار کرانے کے لئے ڈالر دستیاب نہیں ہیں،ایک طرف معیشت بگڑنے اور ہاتھ سے نکلنے کے واضح اشارے ہیں تو دوسری طرف حکومت دعویٰ کیے جارہی ہے کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے،یہ اپنی طرز کا ایک الگ ہی تماشہ ہے کہ جس میں عوام کو الجھا کر وقت گزاری کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت کچھ بھی کہتی رہے ،لیکن اِس بات پر سب متفق ہیں کہ ملک میں عدم استحکام اورسیاسی بے یقینی نے ہی معیشت کا برا حال کیا ہے، کیونکہ ایک طرف سرمایہ کار ملک سے بھاگ رہے ہیںتو دوسری جانب باہر سے سرمایہ کاری آنے کے امکانات صفر ہو چکے ہیں، اس صورت حال کا ادارک کرتے ہوئے حکومت بہتر حکمت عملی اختیار کر نے کے بجائے محاذ آرائی کی سیاست پر گا مزن ہے، اِس کھینچا تانی کی فضاءمیں ملک کے ساتھ جو ہو رہا ہے اور ا±س کے اثرات جس طرح عوام پر پڑ رہے ہیں، اس کی ذمہ داری لینے کیلئے کوئی تیار ہے نہ اس سے نکلنے کاکوئی راستہ تلاش کیا جارہے ، اپوزیشن اقتدار گرانے اور حکومت اقتدار بچانے میں لگی ہوئی ہے ،ملک و عوام کی کو کوئی فکر ہے نہ ہی کسی کو کوئی احساس ہے کہ عوام دال روٹی کے حصول میں اپنے بچے فروخت کرنے کے ساتھ اپنی زندگی کی بازی لگانے پر مجبورہورہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت جب تک جمہوری رویہ نہیں اپنائیں گے، عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دیں گے،انتخابات کی شفافیت پر یقین نہیں کریں گے اور انتخابات کے نتائج تسلیم کرنا شروع نہیں کریں گے،اس وقت تک ملک میں کچھ بھی بہتر ہونے والا نہیں ہے، اپوزیشن اور حکومتی قیادت کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی اور اپنے درمیان حائل بداعتمادیاں ختم کرنا ہو ں گی،سیاسی قیادت جب تک جمہوری رویہ اپنا تے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل سیاسی انداز میں تلاش کرنے کی راہ اختیار نہیں کریں گے،ا±س وقت تک کوئی انتخاب ، کوئی سیاسی عمل استحکام نہیں لا سکے گا، اس وقت دیکھا جائے تو ملک میں استحکام لانے کی کسی کو زیادہ فکر بھی نہیں ہے ،یہاں پر سب اپنے مفاد کے اسیر ہی نظر آتے ہیں،یہاں سب کا مقصد اقتدار میں آنا اور اپنا اقتدار بچانا ہی رہ گیا ہے ،اگر اقتدار نہیں ملتا ہے تو انتشار پیدا کر کے ملک میں بے یقینی کی فضاءپیدا کی جارہی ہے،کاش سیاستدان اپنی ذات اور سیاست سے بالاتر ہو کر ملک و عوام کاسوچنے لگیں ، عوام کو دال روٹی کی فکر سے نجات دلانے کی کوشش کرنے لگیں،لیکن ایسا ممکن ہوتا ،کہیں دور تک دکھائی نہیں دیے رہا ہے۔