EU sanctions Iran over protest crackdown and Russia drone sales

بروسلز:یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف نئے سرے سے کریک ڈاؤن اور یوکرین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے روس کو ڈرون فراہم کرنے پر ایرانی مذہبی رہنماؤں، اعلیٰ حکام اور سرکاری میڈیا کے اعلیٰ ملازمین پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 24افراد اور ایک ادارے پر اور روس کو ڈرون کی فراہمی کے معاملے میں مزید چار افراد اور اتنے ہی اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان نئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ اور یورپی یونین کے سفر پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

سرکاری ملکیت والے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے۔ اس کے حوالے سے یوروپی یونین نے کہا کہ ابلاغی ذرائع کا یہ ادارہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے خلاف پرتشدد کارروائی کو حق بجانب قرار دینے کے لیے حکومت کی بولی بول رہا ہے اور اس کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔ 22 سالہ مہسا امینی کی ،جسے ستمبر کے اواخر میں اسلامی جمہوریہ کے سخت لباس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، حاخلاقی پولس کی حراست میںموت ہوجانے کے بعد ایرانی عوام اپنی روزمرہ کی زندگی پر حکومت کی پابندیوں کے خلاف ایسا احتجاج کر رہے ہیں جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے، جس سے اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا ، ملک کے مذہبی حکمرانوں کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کہا جاتا ہے ۔

کیونکہ یہ حالیہ حکومت مخالف مظاہرے ، جس میں معاشرے کے تمام طبقات کے ایرانی حصہ لے رہے ہیں،تیزی کے ساتھ عوامی بغاوت کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اجلاس میںوزرا نے روس کو ڈرون سپلائی کرنے پر بھی ایران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی طرف سے فراہم کردہ ہتھیار وں کوروس یوکرین کی شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف بلاا تفریق استعمال کر رہا ہے، جس سے ہولناک تباہی اور انسانی ا یذا رسانی ہو رہی ہے ۔ایران نے بھی اگرچہ اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس نے روس کو ڈرون بھیجے ہیں لیکن یہ بہت کم تعداد میں ہیں اور یوکرین پر روسی حملے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔