Istanbul mayor Ekrem Imamoglu sentenced to jail over ‘fools’ insult

استنبول:ترکی کی ایک عدالت نے استنبول کے مئیر اکرام امام اوغلے کو ڈھائی سال سے زائد کی سزائے قید سنا دی اور سیاست میں حصہ لینے پرپابندی عائد کر دی۔ان کے خلاف اس کارروائی کو ان کے حامی سیاسی مقصد اور ملک کے صدر رجب طیب اردوغان کے واحد زبردست حریف کو حاشیہ پر ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے زبردست احتجاج کر رہے ہیں۔اس فیصلے کے خلاف قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید واحتجاج کیا جارہا ہے ۔

ترکی میں اکرام حامیوں نے قومی پرچم کے ساتھ استنبول کی بلدیاتی حکومت کی عمارت کے سامنے احتجاج کیا اور بینرز لہرائے۔نقادوں اور اکرام حامیوں نے آئندہ سال ہونے والے انتخابات سے قبل اس قسم کے عدالتی فیصلے پر حکومت پر زبردست تنقید کی اور اس کو جمہوریت کی نفی قرار یتے ہوئے کہا جارہا ہے ترکی کی عدالتیں اردوغان کے اشاروں پر کام کرتی ہیں۔ انہیں تین سال قبل مئیر کے انتخابات میں جیت کے بعد حکام کے خلاف توہین آمیز کلمات استعمال کرنے پر یہ سزائے قید سنائی گئی ہے جو مجموعی طو پر دو سال سات ماہ پر مشتمل ہے۔

ان کی اس سزا کی توثیق عدالت عظمیٰ سے ہوگی جہاں اکرام کی جانب سے ا س فیصلے کےخلاف اپیل دائر کیاجانا متوقع ہے۔ 2019 میں استنبول کے میئر کا انتخاب دوسری مرتبہ جیتنے کے بعد ایک تقریر کے دوران حکام کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں ملوث اکرم امام مقدمہ کی کسی بھی سماعت یا سزا سنائے جاتے وقت عدالت میں حاضر نہیں رہے۔انہوں نے تقریر کے دوران کہا تھا کہ جن لوگوں نے پہلا انتخاب کالعدم قرار دیا تھا وہ ’بے وقوف‘ تھے جہاں انہیں حکمران جماعت اے کے پارٹی کے امیدوار سے معمولی فرق سے کامیابی ملی تھی۔