Nearly 400 Iranian fgures urge an end to execution of protesters

تہران:(اے یو ایس ) ایران میں سینکڑوں مصنفین، محققین اور ثقافتی کارکنوں نے جن میں درجنوں معروف شخصیات بھی شامل ہیں ایران میں پھانسیوں کی نئی لہر کی مخالفت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایران انٹرنیشنل چینل کی ویب سائٹ کے ذریعہ شائع کردہ بیان کے مطابق بیان پر دستخط کرنے والوں نے پھانسی جیسی ان مذموم کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مصنفین اور محققین نے اپنے بیان میں لکھا کہ ہم اس بیان پر دستخط کرنے والے ایران کے عوام جو آزادی اور مساوات سے محبت کرتے ہیں کی پھانسیوں اور حکومت کی طرف سے اس منظم قتل کی مخالفت کا برملا اعلان کرتے ہیں۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ سزائے موت کے منحوس اور ظالمانہ عمل کا فوری خاتمہ کیا جائے ۔بیان پر دستخط کرنے والوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک ایسی حکومت جو مظاہرین کی آوازوں پر کان نہیں دھرتی اور لوگوں کو اپنی رائے اور عقائد کے اظہار کا موقع نہیں دیتی، یہ حکومت دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کا سہارا لے کر اپنی قانونی حیثیت کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ پھانسیوں کے تسلسل سے بہت جلد اس حکومت کی طاقت کے ستون گرتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں سے داریوش آشوری، مراد فرہادپور، یوسف آبادزی، فیروزہ مہاجر، نازی عظیما، فاطمہ ولیانی، عباس مخبر اور محسن یلفانی شامل ہیں۔ان مترجمین، مصنفین اور محققین کے بیان میں حکومت ایران کے خلاف عوامی بغاوت کے دو نوجوان مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ محسن شیکاری کی پھانسی نے لوگوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی، لیکن حکومت نے اس ردعمل کو نظر انداز کر دیا۔

حکومت کا مقصد جابر قوتوں کو حمایت کا پیغام بھیجنا اور لوگوں کو ڈرانا تھا۔بیان پر دستخط کرنے والوں نے مزید کہا کہ مجید رضا رہنوارد کی رح محسن شیکاری کو پاس اپنی مرضی کا وکیل نہیں کرنے دیا گیا۔ اسے عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اور تشدد کے تحت ان سے جبری اعترافات لیے گئے تھے۔ اس پر سول لباس میں ملبوس دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام تھوپا گیا۔ ان کی پھانسی کی رفتار نے سوال کھڑے کر دیے۔ پچھلے تین مہینوں میں حکومت کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوانے والے سینکڑوں بے گناہ مظاہرین اور بچوں کے قتل کے بارے میں معاشرے کی عوامی رائے میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا ان نہتے لوگوں کے قاتل کون ہیں اور ان پر کب مقدمہ چلایا جائے گا؟بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر تہران کی انقلابی عدالتوں نے اب تک 22 مظاہرین کوسزائے موت سنائی ہے اور ان میں سے زیادہ کو مظاہرے اور فساد فی الارض کے الزامات کا سامنا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ یہ وہ مقدمات ہیں جن کا سرکاری طور پر اعلان حکومت نے کیا ہے، لیکن کردستان، بلوچستان اور دیگر شہروں میں قتل اور پھانسی کا سلسلہ جاری ہے۔