Host countries should avoid detaining Afghan refugees: Minister

کابل:پناہ گزینوں اور واپسی کی وزارت نے مرکز اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے اسٹریٹجک اجلاس میں دنیا کے تمام ممالک سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے یہاں اقامت پذیر افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ اور انہیںجیلوں میں قید کرنا بند کریں۔وزارت کے قائم مقام سربراہ خلیل الرحمان حقانی کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو قید کرنا بند کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے کسی ملک کو افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر نہیں کرنا چاہیے۔

امارت اسلامیہ کے نگراں وزیر برائے امو ر پناہ گزیں نے افغان تارکین وطن کے حقوق کا احترام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ میں یہی توقع کرتا ہوں اور میں ان سے کہتا ہوں کہ ان بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان لوگوں کو جنہیں قید میں ڈالا جا چکا ہے آزاد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے متعدد تارکین وطن کا کہنا ہے کہ انہیں ایران، پاکستان اور ترکی میں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ایک افغان تارک وطن ظاہر چراغ نے کہا کہ میں افغانستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ وہ ان مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ جن ممالک میں ہمارے افغان تارکین وطن کا برا حال ہے ان سے رابطہ کریں اور پناہ گزینوں کی پریشانیاں دور کرائیں۔عفان سے تعلق رکھنے والے ایک اور تارکین وطن احمد فیصل نظامی نے کہا کہ پاکستان، ایران اور ترکی میں ہمارے ہم وطنوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے پاس قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں واپس افغانستان بھیج دیا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ زیادہ تر افغان تارکین وطن ایران اور پاکستان میں مقیم ہیں۔پاکستان میں افغان سفارتخانے نے کہا کہ 1500 افغان تارکین وطن پاکستانی جیلوں میں قید ہیں ۔