Taliban regime's decision to ban women from university education in Afghanistan will come with 'consequences': Blinken

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے افغانستان میں خواتین کی یونیورسٹی کی سطح کی تعلیم پر پابندی لگانے کے طالبان کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور انتباہ دیاہے کہ بنیاد پرست اسلامی حکومت کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ بلنکن نے اس کاخاص طور پر ذکر کیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔

انہوں نے وضاحت کی افغانستان کو پہلے ہی سالانہ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا جب اس کی نصف آبادی ناخواندہ اور پچھڑی ہوئی ہو۔ یہاں یہ بات کافی اہم ہے کہ طالبان حکومت نے حقوق نسواں اور ان کی آزادیوں پر کاری وار کرتے ہوئے منگل کے روز ایک نیا فرمان جاری کر کے کہا ہے کہ افغانستان کی نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں طالبات کے داخلے پر تا حکم ثانی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو وزیر برائے امور اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے دستخط سے جاری کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ آپ سب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ خواتین کی تعلیم کو معطل کرنے کے فرمان پرتا اطلاع ثانی فی الفور عمل کریں۔