Taliban ban on women attending university sparks international condemnation

واشنگٹن:(اے یو ایس ) امریکہ اور برطانیہ اور قطر نے افغانستان میں خواتین کو یونیورسٹی میں تعلم حاصل کرنے سے روکنے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے طالبان کے اس نئے فرمان کی مذمت کی تو دوسری جانب قطر نے اسپر اظہار تشویش کیا ۔ طالبان نے یہ اعلان کچھ مدت پہلے کیا تھا۔امریکہ اور برطانیہ کے یو این سیکیورٹی کونسل میں نمائندوں نے مشترکہ طور پر طالبان کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

دونوں ملکوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ’ طالبان حکومت جب تک تمام افغانوں کے حقوق بحال نہیں کرتی، انسانی حقوق اور خصوصا خواتین کے حقوق نہیں دیتی افغانستان کو بین الاقوامی برادری میں ایک جائز رکن کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ ‘امریکہ کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا ‘ عورتوں کو حقوق دیے بغیر افغانستان کو دوسرے ملکوں جیسے تمام حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ قطر نے بھی افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قطر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی تعلیم پر پابندی سے انسانی حقوق، ترقی، معیشت اور تعلیم پر اثرات ہوں گے۔قطر کا کہنا ہے کہ مسلمان ملک میں خواتین کو تعلیم سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں،امارت اسلامی خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے پرنظرثانی کرے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی لگائی گئی تھی۔کابل سے افغان میڈیا کے مطابق افغان وزارت اعلیٰ تعلیم نے طالبات کی اعلیٰ تعلیم کی معطلی کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔امریکا اور برطانیہ نے افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پرپابندی کی مذمت کی تھی۔امریکا کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا احترام کرنے تک طالبان بین الاقوامی برادری کا حصہ بننےکی توقع نہ رکھیں۔