Putin says he's ready to talk, blames other side

ماسکو:(اے یو ایس ) روسی صدر پوتین نے یوکرین پر حملے کے دس ماہ مکمل ہونے سے چند روز قبل اپنے فوجیوں کو حوصلہ دینے اور عوامی تنقید کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اسلحے کی بلا تعطل فراہم اور ہر طرح کی قانونی مدد فراہم کیے رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔پوتین نے یوکرین جنگ کے دوران پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے فوجیوں پر زور دیا کہ اس طرح کے مسائل جنگ میں آسکتے ہیں ان کو حل کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک اسلحے کی فراہمی کا معاملہ ہے اس میں تعطل نہیں ہوگا، فندز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم ہمیں ڈرون کے استعمال کو بڑھانا ہو گا۔

روسی صدر کا یہ اپنے فوجیوں کے دوسرا دس ماہ کے دوران براہ راست اور اہم رابطہ ہے۔ یہ رابطہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے امریکہ کا پہلا دورہ کیا ہے اورامریکہ کی طرف سے یوکرین کے لیے اپنے جدید ترین اور مہلک ترین پیٹریات میزائل کا 1،85 ارب ڈالر کا پیکج منظور کیا گیا ہے۔اس سے قبل روس کی طرف سے ستمبر کے دوران اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو وسیع پیمانے پر اعتراف کیا گیا تھ اور ہلاک شدہ فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ بتائی گئی تھی، مگر امریکی اندازے میں روسی فوجیوں کی ماہ ستمبر تک کم ازکم تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔اب روسی صدر نے یوکرین میں مشکلات پر قابو پانے اور عوامی تنقید سے سیکنے کا مشورہ دیا ہے۔ روسی صدر نے یوکرین کے قبضے میں لیے گئے چار بڑے علاقوں میں بھی مشکلات اور مسائل کا اعتراف کیا ہے۔ نیز 3 لاکھ رضا کاروں کی بھرتی کے چند ماہ قبل کے اقدام کو بھی مسائل کے حوالے سے یاد کیا ہے۔تاہم روسی صدر کو کہنا ہے کہ اس طرح کی چیزوں میں مسائل ہوتے ہیں۔

روسی فوجیوں کو چاہیے کہ ان مسائل سے نمٹنے کی طرف توجہ دیں۔ ان سے پریشان نہ ہوں۔صدر ولادی میر پوتین نے بطور خاص ذکر کیا کہ انہوں نے روسی وزارت دفاع سے کہا ہے کہ انہوں نے کہ وہ ان تمام سویلین تبصروں پر کان دھرے جو فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ ‘انہوں نے یہ واضح ہے کہ لوگوں کی طرف سے مسائل پر رد عمل آتا ہے۔ لیکن ہیں لوگوں کی آواز سننی چاہیے۔ کیونکہ جنگوں اور بڑے اہداف میں مسائل یا پیچدگیاں آتی ہیں۔روس نے اگرچہ یوکرین کے ایک ہزار ایک سو کلو میٹر پر قبضہ کیا ہے لیے روس کو مشکلات کا سامنا ہے اورجنگی طوالت روس کے مقابل چھوٹے سے ملک کے لیے مفید بن رہی ہے۔ واضح رہے روس نے 7 دسمبر کو کہا تھا کہ یوکرین کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے۔ادھر کریملن کے حامیوں نے بھی یوکرین کے خلاف جنگی مشکلات بڑھتے جانے پر تنقید اور غصے کااظہار شروع کر دیا ہے۔روسی وزیر دفاع سرگئی شوگیو نے ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے روسی صدر کے سامنے اپنی افواج کی تعریف کی ہے۔