Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy Visits U.S. in First International Trip Since Russian Invasion

قیف:(اے یو ایس ) یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے اوروائٹ ہاو¿س میں صدر سے ملاقات کی۔ فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد زیلنسکی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ وائٹ ہاو¿س کی پریس سکریٹری کیرین جین پیئر نے کہا کہ زیلنسکی نے یہ دورہ روس کے یوکرین کے خلاف وحشیانہ حملہ کے 300 دن بعد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ یوکرین کی معاشی، انسانی اور فوجی امداد کی فراہمی سمیت اس وقت تک مدد کرنے کے لیے امریکہ کے پختہ عزم کو واضح کرے گا۔ان کی ملاقاتوں کے شیڈول میںصدر جوبائیڈن اور امریکی عسکری حکام کے علاوہ ارکان کانگریس بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے ۔امریکہ جس نے اب تک یوکرین کو 20 ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس میں مختلف نوع کا اسلحہ بھی شامل ہے ، یوکرینی صدر کے واشنگٹن پہنچنے کے بعد انتہائی جدید اور مہلک پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کو بھی حتمی شکل دے گا۔ جوبائیڈن سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد صدر زیلنسکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے کیپیٹل ہل پہنچے۔ اس سے قبل کیپیٹل ہل سے متعلق ذرائع نے ‘العربیہ ‘ کو بتایا تھا ‘ زیلنسکی ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں کے ارکان کانگریس سے ملاقاتیں کریں گے۔ امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ روس اور یوکرین جنگ کا براہ راست حصہ نہ بنے، تاہم اس نے یوکرین کو اسلحے کی ترسیل کے سلسلے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی ہے۔ اب پیٹریاٹ میزائلوں کی یوکرین کو ترسیل اس سلسلے کی انتہائی اہم کڑی ہو گی۔امریکہ کی طرف سے اس بارے میں ابتدائی اطلاع چند روز قبل سامنے آئی تھی۔ لیکن اس اہم ترین اور جدید ترین فوجی امدادی پیکج کو حتمی شکل اس اہم دورے کے موقع پر دی جائے گی۔ خیال رہے پیٹریاٹ میزائل کا یہ امدادی پیکج دو ارب ڈالر مالیت کا ہو گا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پیٹریاٹ میزائل یوکرین کو دیے جائیں گے اور اس سلسلے میں ایک تیسرے ملک میں یوکرینی فوجیوں کو پیٹریاٹ میزائل استعامل کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ تاہم اس تربیتی عمل میں بھی امریکی انسٹرکٹر شامل نہیں ہوں گے۔