Corona Outbreak worsens in China, 1 Lakh Covid Patients registered daily

بیجنگ: ہندوستان کے ساتھ سرحد پر بار بار جھڑپیں کرنے والا چین مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ بے قابو کوویڈ ہدایات کے باوجود چین میں کورونا دھماکہ ہوا ہے۔ صورتحال 2019 سے ابتر ہوگئی ہے۔ حالات قابو سے باہر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ روزانہ ایک لاکھ نئے کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ہسپتالوں سے لے کر شمشان گھاٹ تک کی حالت خراب ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ چین کے اسپتالوں میں علاج کے لیے بیڈنہیں ہیں۔ لوگ زمین پر لیٹ کر علاج کروانے کو مجبور ہیں۔ لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔عملے کو بیمار ہونے کے باوجود کام کرنا پڑتا ہے اور چھٹی نہیں مل رہی۔ ایک اندازے کے مطابق چین میں کورونا سے کروڑوں افراد ہلاک و متاثر ہو سکتے ہیں ۔ کورونا وبا نے چین کی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔

کمپنیوں میں تیزی سے چھنٹی شروع ہو گئی ہے، وہیں، عالمی بینک نے چین کی ترقی کی پیش گوئی میںکٹوتی کی ہے۔ حالت یہ ہے کہ بار بار سرحد پر حملہ کرنے والا ڈریگن کی خستہ حال ہے اور چین بڑی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔چین میں بے قابو کووڈ نے وہاں کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک نے رواں سال چین کی اقتصادی ترقی کی پیشن گوئی کو کم کر کے 2.7 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اگلے سال کے لیے شرح نمو 8.1 فیصد سے کم کر کے 4.3 فیصد کر دی ہے۔ اس وبا کی وجہ سے کمپنیاں اب کام چھوڑ رہی ہیں۔ پراپرٹی مارکیٹ میں بڑی کمزوری آئی ہے۔ کمپنیاں دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ چین میں کووڈ کے حوالے سے کافی عرصے سے سخت قوانین تھے، جس کی وجہ سے وہاں کی صنعتوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

کووڈ کی سخت ہدایات کی وجہ سے دنیا کی دوسرے نمبر کی معیشت کہے جانے والے چین میں مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی۔ کمپنیوں نے چین سے نکلنے کے منصوبے تیار کر لیے۔ ایپل جیسی کمپنیوں نے پیداوار متاثر ہونے کے بعد چین سے باہر جانے کی تیاری شروع کر دی۔ یہ کمپنیاں چین سے ہجرت کرنے لگیں۔ چین میں سرمایہ کاری کم ہوئی اور مانگ پوری نہیں ہوئی جس کی وجہ سے چین کی جی ڈی پی گروتھ براہ راست متاثر ہوگی۔کئی چینی کمپنیوں نے خود کو بچانے کے لئے ملازمین کی چھنٹنی شروع کر دی ہے۔ موبائل بنانے والی کمپنی سیامی اپنے 15 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے جا رہی ہے۔ چین کی زیرو کووڈ پالیسی اور صارفین کی مانگ میں کمی کی وجہ سے کمپنی کو بڑا دھچکا لگا۔

نقصان کے دبا ؤ کو کم کرنے کے لیے کمپنی اب ملازمین کی چھنٹی کر رہی ہے۔ تیسری سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی میں 9.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ چین کی ٹیک کمپنی ٹینسنٹ پہلے ہی ملازمین کی چھنٹنی کرچکی ہے۔ چین کے کئی بینک اور کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ چین کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ کئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بینک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ چین کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر شدید کساد بازاری کا شکار ہے۔ بینکوں کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے بینکوں نے رقم نکالنے پر پابندی لگا دی تھی۔ چین کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چین کی معیشت تیزی سے کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔