U.N. official meets Taliban, urges reverse of NGO female worker ban

کابل:(اے یو ایس )اقوام متحدہ سے پیر کے روز جاری ایک بیان کے مطابق، افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما)کے قائم مقام سربراہ نے طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر اقتصادیات سے ملاقات کر کے کہا کہ ان کی وزارت خواتین این جی او کارکنوں پر پابندی کے فیصلے کو واپس لے۔ یوناما نے بیان میں مزید کہا کہ یوناما کے قائم مقام سربراہ اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر رمیز الکباروف نے وزیر اقتصادیات محمد حنیف سے، جن کی کی وزارت نے ہفتے کے روز تمام مقامی اور غیر سرکاری غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو حکم دیا ہے کہ وہ خواتین عملے کو تا اطلاع ثانی کام کرنے کی اجازت نہ دیں، ملاقات کی ہے۔ یہ احکامات اقوام متحدہ پر براہ راست لاگو نہیں ہوتے ہیں، لیکن اس کے بہت سے پروگرام این جی اوز کے ذریعے کئے جاتے ہیں جو حکم کے تابع ہیں۔قبل ازیں خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور افغانستان میں کام کرنے والی درجنوں فلاحی تنظیموں (این جی اوز) کے اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیاگیا تھا۔

طالبان انتظامیہ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر حکم نامے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو این جی اوز کے آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔ترجمان وزارت اقتصادیات عبدالرحمٰن حبیب نے کہا تھا کہ خواتین کے لباس سے متعلق ’اسلامی قوانین‘ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تمام افغان خواتین اگلے نوٹس تک کام نہیں کرسکتیں ۔ اقوام متحدہ نے وزارت اقتصادیات کی جانب سے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے اس حکم کے بارے میں وضاحت طلب کی جائے گی۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب ملک میں خواتین کی تعلیم اور کام کرنے سے روکنا افغانستان کو پیچھے دھکیل دے گا جس سے ملک میں امن یا استحکام کی بامعنیٰ کوششوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ یہ پابندی افغان عوام کے لیے تباہ کن ہو گی کیونکہ اس سے لاکھوں لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں خلل پڑے گا۔خیال رہے کہ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب ملک بھر میں لاکھوں افراد فلاحی تنظیموں کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد پر انحصار کرررہے ہیں۔گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کا معاشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا، امریکا نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے اور غیر ملکی امداد دہندگان نے امداد بھی روک دی۔