Ukrainian drone attack on Russian air base kills three, Moscow says

قیف:(اے یو ایس )روس نے کہا ہے کہ روس و یوکرین کی مشترکہ سرحد سے سیکڑوں کلو میٹر دور واقع ایک اسٹریٹجک بمبر فوجی اڈے پیوکرینی ڈرون حملے میں تین روسی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کی روشنی میں روس نے کہا کہ یہ حملہ ر وس کے اندر تک واقع فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی یوکرین کی صلاحیت کا تازہ ترین مظاہرہ ہے۔روس نے کہا کہ اس نے انجلس میں ،جسے یوکرین اپنے خلاف استعمال کے جانے والا روسی جنگی طیاروں کا اڈہ قرار دیتا ہے، اس ماہ اینجلس فضائی اڈے کو نشانہ بنا کر کیا جانے والا دوسرا یوکرینی حملہ ہے۔۔قبل ازیں موصول اطلاع کے مطابق یوکرین کے شہرخیرسون پرہفتے کے روز روسی فوج کے حملے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور58 زخمی ہوگئے ۔

اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد شاہراہوں پر خون آلود لاشیں بکھری پڑی تھیں۔یوکرینی صدر ولودی میرزیلنسکی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں سڑکوں پر جلتی ہوئی کاروں اورکھڑکیوں اورلاشوں کونکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔انھوں نے ساتھ لکھا ہے کہ ”سوشل نیٹ ورکس زیادہ ترممکنہ طورپران تصاویر کو ‘حساس مواد’ کے طور پر نشان زد کریں گے لیکن یہ حساس مواد نہیں بلکہ یہ یوکرین اور یوکرینیوں کی حقیقی زندگی ہے“۔وہ مزید لکھتے ہیں:”یہ فوجی تنصیبات نہیں ہیں … یہ دہشت گردی ہے، یہ ڈرانے دھمکانے اور خوشی کی خاطر قتل ہے“۔انٹرفیکس یوکرین نیوزایجنسی کے مطابق کھیرسن کے علاقائی گورنر یاروسلاو یانوشیویچ نے قومی ٹیلی ویڑن کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر10 ہو گئی ہے۔علاقائی کونسل کے نائب سربراہ یوری سوبولوسکی نے کہا کہ ایک میزائل شہر کے فریڈم اسکوائر کے قریب ایک سپرمارکیٹ کے باہرگرا ہے۔

ماسکو کی جانب سے اس حملے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا جہاں صدرولادی میرپوتین کا کہنا تھا کہ ان کی فوجیں یوکرین میں فاشزم کے خلاف لڑرہی ہیں اور روس کی سلامتی کے لیے مغربی خطرے کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں۔واضح رہے کہ روس یوکرین میں اپنے حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کرتا ہے۔رائٹرز آزادانہ طور پر کھیرسن میں ہلاکتوں کی اطلاعات کی تصدیق کرنے سے قاصر تھا۔یوکرین نے نومبرمیں 24 فروری کے حملے کے بعد اس شہر پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ یہ روس کا واحد علاقائی دارالحکومت ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے روسی افواج دریائے نیپرو کے اس پار سے شہر پر بھاری گولہ باری کررہی ہیں۔فروری کے بعد سے یوکرین نے روسی افواج کو کیف اور دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف کے آس پاس کے علاقوں سے نکال دیا ہے۔ماسکو اب یوکرین کے پانچویں حصے کے آس پاس جنوب اور مشرق میں اپنے مقبوضہ علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

یوکرینی صدر کے معاون کیریلو تیموشینکو نے کہا کہ یہ حملہ گراڈ ملٹی پل راکٹ لانچر سے کیا گیا۔ایک اورمعاون میخائلو پوڈولیاک نے کیف کو روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطالبہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اوراکتوبر سے یوکرین کے پاور گرڈ پر ماسکو کی جانب سے مسلسل بمباری کا حوالہ دیا۔یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو پہلے ہی پاور گرڈ پر ایک ہزار سے زائد راکٹ فائر کرچکا ہے اور اس نے سخت سردی کے بارے میں خبردارکیا ہے جس میں بجلی اور پانی نکالنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے یوکرین کے بیشترگھروں میں مرکزی حرارتی نظام متاثر ہورہا ہے۔یوکرین کے وزیر اعظم کے مطابق، یوکرین پیر کے روز ہونے والے میزائل حملوں کی لہر سے اب بھی سنبھل رہاہے۔اس حملے سے اگلے دن تک شہرکو نصف بجلی ترسیل معطل ہوگئی تھی۔