Either Ukraine fulfils Moscow's proposals or our army will decide

ماسکو: (اے یوایس)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یوکرین کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ ہماری کی تجاویز پر عمل کرے یا پھر اُس کی فوج ہی اس معاملے کا فیصلہ کرے گی۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان صدر ولادیمیر پویتن کی جانب سے یوکرین کو مذاکرات کی پیشکش کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے ایک دن قبل کہا تھا کہ وہ یوکرین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہمقیف اور اُس کے مغربی اتحادیوں نے صدر پوتین کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔روس کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ یوکرین اُس کے زیر قبضہ علاقے میں ہتھیار ڈال دے۔ روس مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ قیف ملک کے پانچویں حصے پر اِس کی فتح کو تسلیم کرے۔اُدھر یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ روس کے انخلا تک لڑے گا۔

تاس نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کو فوج سے آزاد کرنے، وہاں سے روس کی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کی ہماری تجاویز کا دشمن کو اچھی طرح علم ہے۔انہوں نے کہا کہ نقطہ سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ یوکرین ان مطالبات کو اپنی بھلائی کے لیے پورا کرے۔ بصورت دیگر اس معاملے کا فیصلہ روسی فوج کرے گی۔‘روسی صدر نے 24 فروری کو یوکرین پر اپنے حملے کا آغاز کیا تھا جسے انہوں نے خصوصی آپریشن قرار دیا تھا۔روسی صدر ولادیمیر پوتین نے تاریخی روس کا تصور استعمال کرتے ہوئے اپنے 10 ماہ کے حملے کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ ’یوکرینی اور روسی ایک عوام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کے ’جغرافیائی سیاسی مخالفین تاریخی روس کو توڑنا چاہتے ہیں۔جنگ کے 11ویں مہینے میں داخل ہونے کے بعد روسی افواج یوکرین کے مشرق اور جنوب میں پے در پے ناکامیوں کے بعد شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔پیر کو روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے یوکرین کا ایک ڈرون اُس وقت مار گرایا جب وہ جنوبی روس کے فضائی اڈے کے قریب پہنچا۔5 دسمبر کو روس نے کہا تھا کہ یوکرین کے ڈرونز نے اینگلز ایئر فیلڈ اور ریازان کے علاقے میں ایک اور اڈّے پر دھماکے کیے۔روس اس سے قبل بھی یوکرین کو اپنی سرزمین پر اور ماسکو سے الحاق شدہ کریمیا پر ڈرون حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔اکتوبر کے آخر میں روس نے یوکرین کو کریمیا کے ساحلی شہر سیواستوپول میں بحیرہ اسود کے بحری بیڑے پر ڈرون حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا تاہم لڑائی شروع ہونے کے بعد سے روسی سرزمین پر اینگلز کا حملہ سب سے زیادہ بڑا حملہ تھا۔