Muslim family allows use of 60-acre land for Hindu events in maharashtra

اورنگ آباد (اے یو ایس)مہاراشٹر کے ایک مسلم خاندان نے مذہبی بھائی چارہ کی ایک مثال قائم کردی ۔ جب اس نے اپنے 60ایکڑ زمین پر لہلہاتی ہوئی فصل کو کاٹ لیا تاکہ وہاں ہندوبرادری کے لوگ اپنا ایک تہوار مناسکیں۔جب سعید خان کے افراد کو یہ پتہ چلا کہ شیوسینا کے ایم پی سنجے جادھو ایک کھلے میدان کی تلاش میںہیں جہاں پر شیوپورن کا کتھا کا اہتمام کیا جائے تو اس نے اپنی زمین اس پروگرام کے لئے پیش کی۔ انہوںنے اس کے لئے کوئی معاوضہ حاصل نہیں کیا بلکہ20 ایکڑپر جو فصل اگی ہوئی تھی اس کو بھی شیوپورن کتھا کے لئے کٹوا دیا۔

سعید شعیب نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ فرقہ پرستی کا خطرہ ہے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ نفرتیں مٹا دیں اور مختلف فرقو ں میں بھائی چارہ قائم کریں۔ یہ زمین شعیب سعید کے والد ابوبکر کی ہے انہو ںنے کہا کہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ منتظمین یہ پروگرام کرنے کے لئے زمین کی تلاش میں تھی جس کے لئے وہ کرایہ بھی دینے کے لئے تیار تھے ہم نے ا ن کو اپنی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پربھنی علاقے میں حال ہی میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے اور ہم چاہتے تھے کہ بھائی کو چارہ قائم کیا جائے۔

شعیب کے چچا سعیدعبدالقادر نے کہا کہ پچھلے مہینے کچھ مسلمانوں اور ہندو برادری کے لوگوں نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے لئے اپنی زمین پیش کی اور اس اجتماع میں تین لاکھ سے زائد لوگ شریف ہوئے۔ اور جب ہندوبرادری کو مذہبی تہوار کے لئے زمین کی ضررورت تھی تو ہمارا فرض تھا کہ میں ان کی مدد کرسکیں۔ ان کے اس جذبے پر مسٹر جادھو نے کہا کہ وہ ا ن کا شکار ہوں اپنی فصل کو کا ٹ ڈالا اور ہمیں مذہبی تہوا ر کے لئے استعمال کرنے کے لئے دیا۔