India welcomes Security Council ban on Lashkar-e-Taiba chief Miki

نئی دہلی، (اے یوایس) ہندوستان نے پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے نمبر دو لیڈر عبدالرحمان مکی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔عبدالرحمان مکی کو ہندوستان میں سات بڑے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا ہے۔ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے منگل کو کہاکہ ہم عبدالرحمان مکی پر پابندیاں لگانے کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ رحمان مکی لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ مکی نے لشکر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ بہت بڑی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے خطرات بڑھ رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اس طرح کی پابندیاں عائد کرنا ان خطرات کو روکنے اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی جانب ایک موثر قدم ہے۔

مسٹر باگچی نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کے لیے پرعزم ہے اور دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد، قابل تصدیق اور پائیدار کارروائی کے لیے بین الاقوامی برادری پر دباؤ ڈالتا رہے گا۔

سلامتی کونسل کے القاعدہ اور داعش سے منسلک افراد، گروپوں، کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کی قراردادوں 1267 (1999)، 1989 (2011)، 2253 (2015) اور 2368 (2017) کے پیراگراف 2 اور 4 کے تحت مکی پر پابندی لگایا گیا ہے۔ 2000 میں لال قلعہ پر حملہ، جنوری 2008 میں رام پور میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کیمپ پر حملہ، نومبر 2008 میں ممبئی دہشت گرد حملہ، فروری 2018 میں سری نگر میں کرن نگر فدائین حملہ، اسی سال مئی میں بارہمولہ میں خان پورہ حملہ، جون میں سری نگر میں اخبار رائزنگ کشمیر کے چیف ایڈیٹر شجاعت بخاری کی ہلاکت اور ایل او سی کے ساتھ دراندازی کی کوشش کے دوران آرمی کے ساتھ تصادم میں ایک میجر سمیت پانچ فوجیوں کی ہلاکت اور بانڈی پورہ کے گریز میں کا ذمہ دار مکی کو سمجھا جاتا ہے۔مکی کو حکومت پاکستان نے مئی 2019 میں لاہور میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ سال 2020 میں ایک پاکستانی عدالت نے اسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔