Iran: Women political prisoners demand end to protester executions and unjust sentences

تہران (اے یو ایس)ایران میں 30 سیاسی قیدی خواتین نے، جن میں ایک فرانکو،ایرانی ماہرتعلیم اور ایک سابق صدر کی بیٹی بھی شامل ہیں،اتوار کے روز ملک میں مظاہرین کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نےایک درخواست میں کہا کہ ”ہم ایوین جیل کے خواتین وارڈ میں سیاسی اورنظریاتی قیدی ہیں اورمظاہرین کی سزائے موت اورایران میں قیدیوں کی غیرمنصفانہ سزاو¿ں کے خاتمے کامطالبہ کرتی ہیں“۔ان خواتین قیدیوں نے کہا ہے کہ انھیں غیرمنصفانہ اورغیر شفاف طریق کارکے تحت مجموعی طورپر124 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور یہ مدت کوئی چارنسلوں کے ادوار کے برابر بنتی ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ ”مختلف مذہبی اور سیاسی پس منظرسے تعلق رکھنے کے باوجود ،ہم پھانسی کو”ناں“ کہنے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں۔ ہم انصاف کے ساتھ جینے کے لوگوں کے حق کا دفاع کرتی ہیں“۔

اپیل پردست خط کنندگان میں فرانکو ایرانی محقق فریبا عادل خواہ بھی شامل ہیں۔انھیں جون 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایک اور قیدی ،سابق قانون ساز فائزہ ہاشمی نے بھی اس درخواست پر دست خط کیے ہیں جو سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی ہیں۔انھیں جنوری میں ملک کی سلامتی کے منافی ملی بھگت کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایران میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی سابق نمایندہ نیلوفربیانی نے بھی اس پر دست خط کیے ہیں۔انھیں 2020 میں امریکا کی ایک دشمن حکومت کے ساتھ سازش کرنے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایران میں گذشتہ سال ستمبرمیں 22 سالہ مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد سے مظاہرے جاری ہیں۔ گو اب ان کی شدت میں کمی آچکی ہے۔ مہسا امینی کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سخت ضابطہ لباس کی مبیّنہ طور پر خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا گیا تھا اور تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست گرفتاری کے تین روز بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ناروے میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق مظاہرین کے خلاف کریک ڈاو¿ن میں 481 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 109 افراد کو احتجاج سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کا سامنا ہے۔