"Armed Forces Don't Need...": Rahul Gandhi Rejects Digvijaya Singh's Remark

جموں(اے یو ایس)کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ کے اس بیان کو مسترد کیا ۔جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2016میںجنگ بندی لائن کے اس پار جو سرجیکل اسٹرائکس کئے گئے اس میں صداقت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فوج پر پورا بھروسہ اور اعتماد ہے اور فوج کو کسی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے میں دگ وجے سنگھ کے بیان سے متفق نہیں ہوں۔ انہوں نے یہ بات آج پریس کانفرنس میں کہی۔جب ان سے کہا گیا کہ ان کی پارٹی دگ وجے سنگھ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی تو راہل گاندھی نے بتایا کہ کانگریس ایک جمہوری پارٹی ہے اور وہاں پرطعنہ شاہی نہیں چلتی ہے۔ ہم کسی کو زو روزبردستی نہیں مانتے ہیں اور کسی پر دباﺅ نہیں ڈالتے ہیں۔ یہ مسٹر دگ وجے سنگھ کے ذاتی نظریہ ہیں نہ کہ کانگریس کے ۔ مجھے اس پر پورا یقین ہے کہ ہمارے فوجیوں نے صحیح کام کیا ہوگا انہیں کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہماری پارٹی میں ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہوتا ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کچھ رہنما کسی واقعہ کو دوسرے نظریہ سے دیکھتے ہیں بی جے پی اور آر ایس ایس میں کوئی ایسا سسٹم ہی نہیں ہے اور وہاں صرف حکم دیا جاتا ہے اور لوگوں کو وہی ماننا ہوگا۔ ہم نے نوٹ بندی کے معاملے میںبھی دیکھا کہ ایک دن آنا ً فاناً وزیراعظم نے نوٹ بندی کا فیصلہ لیا تو کسی نے اس پر اتفاق رائے بھی نہیں دی۔ تبادلہ خیال کرنا جمہوری نظام کا ایک حصہ ہے ۔لیکن کچھ لوگ کبھی کبھی بیہودہ باتیں بھی کرتے ہیں۔جب انہیں بی بی سی کے ڈاکیو منٹری پر اپنی رائے دینے کو کہا تو راہل گاندھی نے کہاکہ بھاگوت گیتا میں یہ صاف لکھا ہے کہ سچائی کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ آپ کسی چیز پر پابندی لگا لگتے ہو آزادی صحافت پر پابندی لگاﺅ۔ای ڈی اور سی بی آئی کا بھی استعمال کرو لیکن کہیں نہ کہیں سچائی سامنے آتی ہے۔ جب ان سے کہاگیا کہ گوا میں بھی آزاد کو بھارت جوڑو یاترا میں کیوں نہیںبلایا گیا راہل گاندھی نے کہا کہ جو ان کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں وہ یہاںبیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں غلام نبی آزاد چودھری لال سنگھ کی عزت کرتا ہوں اوران سے معافی مانگتا ہوں اگر وہ کسی چیز سے آزدہ خاطر ہوں۔