Peshawar Attack: How did the suicide bomber enter the police line?

پشاور(اے یو ایس)پشاور پولیس لائن میں خود کش حملہ کے بارے میں سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بڑا چیلنج بن گیا ۔ اس حملے میں 100سے زیادہ لوگ ہلاک اور 250زخمی ہوئے۔چونکہ اب اس سارے واقعہ کی جانچ ہورہی ہے اور اس سے یہ چیز واضح ہوگئی ہے کہ یہ حملہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیاگیا۔اور اس میں مبینہ سہولیت کار کی موجودگی کا بھی امکان ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حملہ آوروہاں کیسے داخل ہوا۔ آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ ’ہم سے یہی پوچھا جا رہا ہے کہ خود کش حملہ آور پولیس لائن میں داخل ہو کر آخر مسجد تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اب تک کچھ بھی واضح نہیں ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ ’ابتدائی تحقیقات سے یہی معلوم ہوا ہے کہ خود کش بمبار یا سہولت کار اتنی مقدار میں بارودی مواد ایک ساتھ نہیں لے کر گیا ہو گا بلکہ امکان ہے کہ یہ مواد ’تھوڑا تھوڑا کر کے وقفے وقفے کے ساتھ پولیس لائن پہنچایا گیا ہو گا۔‘ان کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ اسی امکان کے پیش نظر تفتیش کار گذشتہ ایک ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔پولیس لائن میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ چھ مختلف محکموں کے اہلکاروں اور افسران کے دفاتر موجود ہیں جن میں سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس، ایف آر پی، سپیشل سروس یونٹ (ایس ایس یو)، پشاور پولیس اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے شامل ہیں اور ان اداروں کے ڈی آئی جی لیول کے افسران کے دفاتر یہاں موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں سکیورٹی کے انتظامات عموماً بہتر ہوتے ہیں۔پولیس لائن میں داخلے کے لیے تین مقامات پر پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں جو آنے جانے والوں پر نظر رکھتے ہیں، ان کی تلاشی لیتے ہیں، ان کی شناخت معلوم کرتے ہیں۔

سکیورٹی ایس او پیز کے مطابق مہمان سے میزبان کے متعلق پوچھا جاتا ہے اور دی گئی تفصیلات کو کنفرم کرنے کے لیے پولیس لائن میں موجود میزبان کو بھی کال کی جاتی ہے۔ سکیورٹی پر معمور اہلکار ان تمام تر تفصیلات کی تصدیق کے بعد کسی کو پولیس لائن میں داخلے کی اجازت دیتے ہیں۔آئی جی معظم کا کہنا تھا کہ جب اس طرح کی صورتحال ہوتی ہے جہاں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے تو عموماً کسی کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق گیٹس پر چیکنگ ہوتی تھی مگر ایک پشتون کلچر بھی ہے جس میں مہمان کے لیے مروت اور وضع داری دکھانی پڑتی ہے جس کے تحت بعض اوقات جس کو ہم جانتے ہیں اس کی جامع تلاشی لینے سے گریز کیا جاتا ہے۔آئی جی معظم کا کہنا تھا کہ ’اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ خود کش بمبار کی مہمان کے روپ میں آیا یا کوئی درخواست گزار بن کر کیونکہ بہت سے افراد پولیس محکمے سے متعلق اپنی شکایات یا درخواستیں ذاتی حیثیت میں لے کر بھی افسران کے دفاتر آتے ہیں۔‘تاہم تفتیش سے منسلک افسران کے مطابق اب تک پولیس کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے ان عناصر تک پہنچا جا سکے جو اس حملے میں ملوث ہیں۔ اگرچہ خود کش حملہ آور کا سر دھماکے کے مقام سے ملا ہے اور سوشل میڈیا پر خود کش حملہ آور کی تفصیل بھی سامنے آئی ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کا تعلق ضلع مہمند سے تھا تاہم تفتیش کاروں کے مطابق اب تک اس حوالے سے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔بی بی سی نے پولیس لائن کی سکیورٹی پر معمور اہلکاروں سے اس حوالے سے بات کی ہے۔

ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بیشتر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب ا±ن کے سامنے بڑی گاڑی میں کوئی شخص بیٹھا ہوتا ہے جو پولیس لائن میں داخل ہونا چاہتا ہے روکنے پر عموماً غصہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں کیوں روکا۔ان کے مطابق اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کالے شیشوں والی افسران کی گاڑیاں آتی ہیں جن میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کون موجود ہے، صرف افسر ہی ہیں یا کوئی اور بھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات بھی ہوئے کہ ’مہمانوں سے پوچھ گچھ اور تلاشی کی بنیاد پر افسران کے مہمانوں نے اندر جا کر شکایت کی جس کی بنیاد پر سکیورٹی اہلکاروں کی تنزلی بھی کی گئی۔‘ان کا دعویٰ ہے کہ ’فول پروف سکیورٹی صرف تب ہی ممکن ہے جب اندر داخل ہونے والی ہر شخص اور گاڑی کی مکمل تلاشی لی جائے۔‘دوسری طرف آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ سکیورٹی میں غفلت ہوئی ہے اور وہ اس سے انکار نہیں کر رہے۔ ’اب اس واقعے کی تحقیقات بھی ہو گی اور مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ کیسے اسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔‘اس بارے میں سابق سینیئر پولیس افسر سید اختر علی شاہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس لائن میں داخلے کے لیے مختلف سکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ انھیں بھی روک کر پوچھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور یا ان سہولت کاروں نے یہاں حملے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کی ہو گی اور اس کے لیے ریکی کی ہو گی۔

انھوں نے معلوم کیا ہو گا کہ کون کون سے دفاتر کہاں ہیں اور کس وقت لوگ کہاں پر زیادہ ہوتے ہیں اور دن کے اوقات میں مجموعی سکیورٹی کے کیا انتظامات ہوتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ حملہ آور نے اس لبادے کا انتخاب کیا ہو جس میں چیکنگ کم کی جاتی ہے تاہم یہ سب کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘پشاور جی ٹی روڈ سے متصل خیبر روڈ پر پشاور ہائی کورٹ، صوبائی اسمبلی اور جوڈیشل کمپلیکس واقع ہیں۔ اس کے دائیں جانب ایک فائیو سٹار ہوٹل اور پھر اس کے ساتھ کور کمانڈر ہاو¿س ہے۔ہائی کورٹ اور صوبائی اسمبلی کے بعد جوڈیشل کمپلیکس اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر آتے ہیں اور اس کے ساتھ بائیں جانب راستہ جاتا ہے جس پر پولیس ہسپتال اور پولیس لائن واقع ہیں۔آپ جب بائیں جانب مڑتے ہیں تو یہاں سے آپ کی پہلی تلاشی لی جاتی ہے، آپ کی شناخت کا پوچھا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب اندر جاتے ہیں تو ایک اور چیکنگ پوائنٹ ہوتا ہے، اس سے گزر کر پولیس لائن کا مین گیٹ آتا ہے۔یہاں آپ کا باقاعدہ انٹرویو لیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ کس سے ملنا ہے اور جس سے ملاقات کرنی ہوتی ہے، ان سے رابطہ کر کے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔پولیس لائن کے بالکل سامنے سول سیکریٹریٹ ہے جہاں وزرا اور دیگر افسران بیٹھتے ہیں۔ اس روڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے روڈ پر گورنر ہاو¿س اور وزیر اعلی سیکریٹریٹ ہیں۔

پولیس لائن پشاور سنٹرل جیل، جوڈیشل کمپلیکس اور سول سیکریٹریٹ کے درمیان واقع ہے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے خراسانی گروپ نے قبول کی ہے۔ٹوئٹر پر عمر خراسانی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’افغانستان میں مارے گئے ان کے ساتھی خالد خراسانی کا بدلہ ہے۔‘ اس ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ یہ چوتھا خود کش حملہ ہے، جو اس بدلے یا انتقام کے طور پر کیا گیا ہے۔تاہم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ مساجد اور عام لوگوں پر حملے نہیں کرتے۔اس بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے کالعدم جماعتوں میں بیان بازی ہوئی ہے لیکن وہ کسی کالعدم گروپ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے یا برات کا اظہار کرنے پر نہیں جائیں گے بلکہ اپنے طور پر اس کی تحقیقات کریں گے اور اس میں ملوث افراد یا گروہ کو انجام تک ضرور پہنچائیں گے۔منگل کے روز وفاقی وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے، ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ ’خودکش حملہ آور کے سر اور جسم کے ٹکڑے جمع کر کے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیوفنسنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘