Rahul Gandhi disqualified by Parliament after conviction in 'Modi surname' case

نئی دہلی (اے یو ایس ) کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو دو دنوں میں دوسرا شدید جھٹکا لگا ہے۔ 23 مارچ کو سورت کی ایک عدالت نے ہتک عزتی معاملے میں انھیں قصوروار قرار دیتے ہوئے دو سال قید کی سزا سنائی تھی، اور ا?ج لوک سبھا سکریٹریٹ نے ان کی پارلیمانی رکنیت کو رَد کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ’مودی‘ سر نیم (کنیت) پر قابل اعتراض تبصرہ کے معاملے میں راہل گاندھی کو سورت کے سیشن کورٹ نے جمعرات کے روز دو سال کی سزا سنائی تھی اور 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ سزا ملنے کے بعد سے ہی کہا جا رہا تھا کہ راہل گاندھی کی رکنیت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد ہی راہل گاندھی کو ایوان سے نااہل قرار دیے جانے کا عمل شروع ہو گیا تھا اور فوری طور پر کارروائی بھی ہو گئی ہے۔دراصل ضابطوں کے مطابق کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ملنے کے بعد رکنیت گنوانی پڑتی ہے۔ کیرالہ کے وائناڈ پارلیمانی سیٹ سے منتخب راہل گاندھی کو جب سورت کے سیشن کورٹ نے دو سال کی سزا سنائی تو اسی ضابطہ کے تحت کارروائی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ بالا?خر لوک سبھا اسپیکر نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ لیا۔اب اس معاملے پر کانگریس کا شدید رد عمل سامنےآیا ہے۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر بیان دیا ہے کہ ”راہل گاندھی جی کی لوک سبھا رکنیت ختم کر دی گئی۔ وہ آپ کے اور اس ملک کے لیے لگاتار سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑ رہے ہیں، جمہوریت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہر سازش کے باوجود وہ یہ لڑائی ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور اس معاملے میں قانونی کارروائی کریں گے۔ لڑائی جاری ہے۔“راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت رد ہونے پر راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ ”راہل گاندھی اپوزیشن کی آواز ہیں اور اب یہ آواز اس تاناشاہی کے خلاف مزید مضبوط ہوگی۔“ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ”راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم کرنا تاناشاہی کی ایک مثال ہے۔ بی جے پی یہ نہ بھولے کہ یہی طریقہ انھوں نے اندرا گاندھی کے خلاف اختیار کیا تھا اور ان کو منھ کی کھانی پڑی۔ راہل گاندھی ملک کی ا?واز ہیں جو اس تاناشاہی کے خلاف اب مزید مضبوط ہوگی۔“