Norway aid female workers return to Taliban heartland

کابل(اے یو ایس ) طالبان نے خواتین کی ملازمت پر عائد پابندیوں کے حوالے سے موقف میں نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔افغانستان میں طالبان کی طرف سے خواتین کی ملازمت پر عاید پابندیوں کے باوجود طالبان حکومت نے پیر کے روز ناروے کی پناہ گزین کونسل کو افغانستان کے متعدد صوبوں میں اپنے دفاتر میں لڑکیوں کو ملازمت پر رکھنے کی اجازت دی ہے۔ناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل کے سیکرٹری جنرل یان ایگلینڈ نے مائیکرو بلانگ ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ پر ایک ٹویٹ میں کونسل میں ملازمت کرنے کے لیے افغان لڑکیوں کی واپسی اور قندھارسمیت افغانستان کے دیگر علاقوں میں انسانی بنیادوں پر سرگرمیوں کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں انسانی امدادی سرگرمیوں میں مرد و خواتین کو یکساں مواقعے فراہم کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 24 دسمبر 2022 کو طالبان حکام نے ملک میں کام کرنے والی 1,260 غیر سرکاری تنظیموں میں افغان خواتین کی ملازمت پرپابندی لگا دی تھی۔طالبان حکام کا کہنا تھا کہ انہیں خواتین کے اسلامی لباس، حجاب پہننے اور جسم اور چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق “سنگین شکایات” موصول ہوئی تھیں جس کے بعد خواتین کی ملازمت پرپابندی عاید کی گئی تھی ، تاہم اقوام متحدہ نے طالبان کے اس فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔

دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں کا سامنا کرنے والےملک افغانستان میں تقریباً 23 ملین مرد خواتین اور بچے انسانی امداد سے مستفید ہوتے ہیں اوران کا انحصار غیرملکی امداد پر ہوتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے لیے تقریباً 3900 افراد کام کرتے ہیں، جن میں سے 3300 افغان شہری ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ان ملازمین میں تقریباً 600 خواتین ہیں جن میں سے 400 افغان خواتین ہیں۔اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والی تحریک طالبان نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا ہے۔ طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم اور ملازمت پر پابندی عاید کی گئی ہے۔ خواتین کو پارکس جیسے عوامی مقامات اور جم جانے سےبھی روک دیا گیا ہے۔