UN deputy sec-gen calls for applying pressure on interim Afghan government

نیویارک:اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد نے ایک بار پھر موجودہ افغان حکومت سے پر زور اپیل کی کہ وہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم اور کام کے حقوق کو یقینی بنائے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آمنہ نے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔

اسلام میں خواتین کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں ان میں سے کچھ مسائل پر غور کیا جائے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق بحال ہونے چاہئیں تنظیم اسلامی کانفرنس( او آئی سی )نے حال ہی میں افغانستان میں ایک مشن بھیجا ہے اس لیے ہمارے خیال میں دباؤ اور حرکت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی کو بھی اہم سمجھاجائے کیونکہ وہ بین الاقوامی برادری کا حصہ ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کچھ سماجی کارکنوں کے مطابق امارت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ دنیا کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے خواتین اور لڑکیوں کو روزگار اور تعلیم کے حقوق فراہم کرے۔ خواتین کے حقوق کی کارکن تفسیر سیاپوش نے کہا کہ وہ کب تک خواتین کو نظر انداز کرتے رہیں گے اور کس حد تک ان کے حقوق کی پامالی کرتے رہیں گے۔خواتین کے حقوق کی ایک اور کارکن ثریا پیکن نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر یہ دنیا اور افغانستان کے موجودہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔