جنیوا (اے یو ایس) وبائی مرض کووڈ 19 نے زندگی کی دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بھی شدید متاثر کیا ہے جب کہ وبا کے دوران 6 کروڑ 70 لاکھ بچے معمول کے مطابق لگنے والے حفاظتی ٹیکوں سے مکمل یا جزوی طور پر محروم رہے۔بچوں کے متاثر ہونے کے حوالے سے یہ خوفناک انکشاف اقوام متحدہ کے ادارے اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔یونیسیف نے خبردار کیا کہ کوڈ 19 کے باعث 2019 اور 2021 کے درمیان بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کو بری طرح متاثر کیا جس کی وجہ سے لاکھوں بچے کئی طرح کی ایسی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں جنہیں روکا جاسکتا ہے۔112 ممالک میں ویکسینیشن مہم میں کمی کے باعث کوڈ 19 سے قبل یا اس کے دوران پیدا ہونے والے بچے اب اس عمر کی حد سے بڑے ہو رہے ہیں جب انہیں عام طور پر ویکسین لگائی جانی تھی۔رپورٹ میں حفاظتی ٹیکوں سے محروم ان بچوں کو فوری ویکسین لگانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
یونیسیف کی جانب سے شائع ہونے والی ’اسٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر کے بچوں کو وہ ویکسین فراہم نہیں کی گئی جن کی انہیں اموات اور سنگین بیماریوں سے بچانے کے لیے ضرورت ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ مکمل طور پر یا جزوی ویکسین سے محروم ہے، یعنی وہ مکمل طور پر یا جزوی طور پر معمول کے مطابق ضروری حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے ہیں، یونیسیف کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کی کمی کی یہ صورتحال ہم نے 2008 کے بعد سے نہیں دیکھی تھی۔خیال رہے کہ 2022 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں ڈھائی کروڑ بچوں کو جان بچانے والے حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے جاسکے جب کہ عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں تنزلی برقرار رہی۔یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30 سال کے دوران بچوں کی ویکسین میں یہ سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، بچوں کو تین بیماریوں خناق، تشنج اور کالی کھانسی (ڈی ٹی پی 3) سے بچاو¿ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح میں 2019 سے 2021 کے درمیان 5 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ویکسین کی کوریج 81 فیصد رہ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں صرف 2021 میں تقریبا ڈھائی کروڑ بچے ایک یا زائد حفاظتی ٹیکے لگنے سے محروم رہ گئے، یہ تعداد 2020 کے مقابلے میں 20 لاکھ اور 2019 کے مقابلے میں 60 لاکھ زیادہ ہے، جس کے سبب بچوں کی بڑھتی تعداد کو بیماری کے خطرات ہیں، جنہیں روکا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ 2020 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف نے کہا تھا کہ کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے بچوں کے لیے پہلے سے جاری حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں رکاوٹ کے باعث بننے سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند بڑے ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں بچوں کو متعدد بیماریوں اور وباؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر انہیں حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جسے امیونائیزیشن بھی کہتے ہیں۔اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 78 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے ہر تین میں سے ایک بچہ اپنی پہلی سالگرہ منانے تک کسی بھی طرح کی بیماری سے بچاو¿ کی ویکسین لگوانے سے محروم رہتا ہے۔کورونا وائرس کی وبا اور اس سے بچاو¿ کے لیے نافذ کیا گیا لاک ڈاو¿ن اسی صورتحال میں مزید مشکلات پیدا کرنے کا باعث بنا اور ماہرین نے اس صورتحال کو مستقبل میں بچوں کی صحت اور بیماریوں کے حوالے سے خطرے کے طور پر دیکھا تھا اور ساتھ ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے مستقبل میں بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 