کابل: امارت اسلامیہ کا ایک وفد روس۔اسلامی عالمی اقتصادی فورم میں ، جو روسی جمہوریہ تاتارستان کے شہر کازان میں منعقد ہورہا ہے ،شرکت کے لیے بدھ کے روز کابل سے روانہ ہوگیا۔ روس۔اسلامک ورلڈ کازان فورم روسی وفاق اور تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے ۔یہ اجلاس آج یعنی 18 مئی سے شروع ہو کر 19 مئی کو اختتام پذیر ہوگا۔ افغان وفد میں نگراں وزیر برائے امور صنعت و تجارت وافغان وزیراعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور نورالدین عزیزی اور دیگر شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ افغان وفد اجلاس کے دوران غیر امصروفیات کے وقفہ کے دوران روس اور او آئی سی کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا جس میں افغانستان میں ممکنہ کاروباری اور اقتصادی مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
میڈیا کے مطابق اس سربراہی اجلاس کا مقصد روس اور عالم اسلام کے درمیان تجارت، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی تعاون اورسماجی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں آذربائیجان، ایران، ملیشیا، تاجکستان، ترکی، ازبکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین، یوگنڈا، قطر اور پاکستان سمیت تقریباً 85 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ سال اقتصادی فورم میں 64 ممالک اور روس کے 59 خطوں سے تقریباً 6,400 مندوبین نے شرکت کی تھی۔ اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب طالبان کے وفد کو کسی بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کے لیے با قاعدہ مدعو کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اقوام متحدہ کی میزبانی میں یکم اور 2 مئی کو ہونے والی کانفرنس میں طالبان عہدیداروں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ یہ وفد اجلاس میں شریک مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔
تصویر سوشل میڈیا 